ایران! IAEA انسپکٹرز کو دوبارہ معائنے کی اجازت فراہم کرے، یورپی یونین
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں انٹونیو کاسٹا کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی واحد غیر جانبدار ادارہ ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کی تصدیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ کے ذریعے یورپی کونسل کے صدر "انٹونیو کاسٹا" نے IAEA کے ڈائریکٹر جنرل "رافائل گروسی" کے ساتھ اپنی ملاقات کی خبر دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں بہت مفید تبادلہ خیال ہوا۔ ایران کے معاملے میں یورپی یونین، IAEA کے کردار کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو مزید دُہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو ہرگز ایٹم بم بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی واحد غیر جانبدار ادارہ ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کی تصدیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایرانی صدر ڈاکٹر "مسعود پزشکیان" سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران، NPT معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور اُسے چاہئے کہ وہ بین الاقوامی جوہری انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات کے معائنے کی دوبارہ اجازت دے۔
یاد رہے کہ گزشتہ جمعے کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے آخری معائنہ کاروں کو ایران سے واپس بلا لیا کیونکہ ان معائنہ کاروں کی ایرانی جوہری تنصیبات میں واپسی کے معاملے پر گہرا جمود پیدا ہو چکا ہے۔ دوسری جانب اسلامی مشاورتی کونسل کے نام سے معروف، ایرانی پارلیمنٹ نے اپنی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد ایک قانون منظور کیا جس کی رو سے تہران اس وقت تک IAEA کے ساتھ تعاون معطل رکھے گا جب تک جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی نہ بنا لیا جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کی گمراہ کُن تنقیدی رپورٹ کی وجہ سے یورپی ممالک نے امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف پیش کردہ قرارداد کو گورننگ کونسل میں منظور کیا، جو دراصل ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر بمباری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پہلے سے تیار کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ایران کے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔