اسرائیل کی غزہ کی تعمیرِ نو کیلیے دیگر ممالک کو فنڈنگ کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب:صیہونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے قطر اور دیگر تیسرے ممالک کو مالی امداد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے، یہ پیش رفت ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر سامنے آئی ہے جو اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان طے پانے کے قریب ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ فیصلہ رواں ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جہاں اسرائیل نے واضح کیا کہ وہ تعمیرِ نو کے عمل میں صرف قطر کی اجارہ داری نہیں چاہتا، بلکہ دیگر ممالک کی شمولیت کو ترجیح دے گا تاکہ مالی وسائل میں تنوع اور شفافیت قائم کی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس کے لیے یہ اجازت غزہ کی فلسطینی آبادی کے لیے ایک اہم علامت‘‘ ہوگی کہ جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے باعث ہزاروں عمارتیں، مکانات، اسکولز، اسپتال اور بنیادی ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اور علاقے میں قحط، بیماریوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
خیال رہےکہ حماس نے اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی کے حصول میں لچک دکھاتے ہوئے وہ 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ اس اعلان کو مذاکراتی عمل میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ’’غزہ میں جنگ بندی کے ایک معاہدے کے بہت قریب ہے، ان کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور اس بار امید ہے کہ کوئی بامعنی نتیجہ نکلے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ پر شدید بمباری شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 57,700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مسلسل حملوں سے پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہے، خوراک اور دوا کی شدید قلت ہے، جب کہ بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
یاد رہےکہ گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
دوسری جانب بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی (Genocide) کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، جس میں اسرائیل کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ٹھہرایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔