قائم مقام صدر پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعلقات اعتماد، مشترکہ اقدار اور اسلامی بھائی چارے پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، مالدیپ میں اسرائیلیوں کا داخلہ بند

انہوں نے یہ بات مالدیپ کے اسپیکر اسمبلی عبدالرحیم عبداللہ کی قیادت میں آئے ہوئے وفد سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران کہی۔

قائم مقام صدر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاحتی، تعلیمی، صحت، نوجوانوں، دفاع اور ماحولیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم 8.

87 ملین ڈالر ہے جسے براہ راست ہوائی اور بحری رابطوں کے ذریعے مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مالدیپ میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں میں بھرپور شرکت کی ہے اور مالدیپ کی پارلیمنٹ بلڈنگ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت ہے۔

صدر گیلانی نے مالدیپی طلبہ کے لیے میڈیسن، انجینیئرنگ، فارمیسی اور ڈینٹسٹری کے شعبوں میں اسکالرشپس جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سیاحتی تعاون کو فروغ دینا اور تجربات کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان سارک کو مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے جموں و کشمیر میں قیامِ امن کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ملاقات کے دوران مالدیپ کے وفد نے پاکستان کو قریبی شراکت دار قرار دیتے ہوئے تعلیم، صحت اور تجارت میں تعاون کو سراہا۔ وفد نے پاکستانی اسکالرشپس اور پیشہ ور افراد کی خدمات پر بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ بطور مسلم ملک فلسطین، خصوصاً غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

قائم مقام صدر نے مالدیپ کے اسپیکر کو نومبر 2025 میں اسلام آباد میں ہونے والی انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

مزید پڑھیں: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات، سیلاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر منظور احمد کاکڑ اور سینیٹر شہادت اعوان بھی شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر اسمبلی مالدیپ عبدالرحیم عبداللہ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی مالدیپ کا وفد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی یوسف رضا گیلانی مالدیپ کے کے درمیان انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ