data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پولینڈ نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پولینڈ کے سفیر میسیج پسارسکی کی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولینڈ تیل و گیس کے شعبے میں 100 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ملاقات میں پولینڈ کے سفیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مختلف نئے شعبوں میں شراکت داری کا خواہاں ہے، تاکہ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پولینڈ ایک اعلیٰ سطح کا  سیاسی وفد پاکستان بھیجے گا، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ یہ اقدام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں پولینڈ پہلے ہی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان فراہم کرچکا ہے۔

ایس آئی ایف سی کی کوششوں کو اس سلسلے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع آسان بنائے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پولینڈ کی اس سرمایہ کاری سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجی اور تجربات بھی منتقل ہوں گے۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرمایہ کاری وقت پر مکمل ہوجاتی ہے تو اس سے پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی پولینڈ کے لیے بھی پاکستان میں ایک وسیع مارکیٹ کھل جائے گی جو مستقبل میں مزید اقتصادی تعاون کا ذریعہ بنے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں سرمایہ کاری پولینڈ کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم