وزیر دفاع سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دفاعی اور اسٹریٹجک امور میں تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیردفاع خواجہ آصف اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات مزید گہرے کرنے، علاقائی سلامتی، دفاعی اور اسٹریٹجک امور میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
وزارت دفاع سے جاری بیان کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسلام آباد میں ملاقات کی جہاں وزیر دفاع نے برطانوی ہائی کمشنر کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کو باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، دفاعی اور اسٹریٹجک امور میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کا موقع ملا اور دونوں اطراف نے متعدد شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی برطانیہ کے لیے پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے بڑھانے کے لیے اضافی ایئرلائنز شامل کرنے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے آ خر میں تعمیری بات چیت جاری رکھنے اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ مفاہمت ہوئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل تبادلہ خیال
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔