پاکستان کی 20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے بڑی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان میں توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے ہیں، آف شوربڈنگ راؤنڈ میں 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں موصول ہوگئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے انرجی سیکیورٹی وژن کے مطابق مقامی وسائل کی ترقی میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، پاکستان کو 20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس oil and gas کے ذخائر کی تلاش کے سلسلے میں اہم حاصل ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی، پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق زیر سمندر تیل اورگیس کیلئے ڈرلنگ کے دوران سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
سندھ : گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی میں مزید 2 ماہ کا اضافہ
کامیاب بولیاں 53 ہزار 510 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر محیط ہیں، انڈس اور مکران بیسن میں بیک وقت ایکسپلوریشن کی حکمت عملی کامیاب رہی۔کامیاب بڈنگ راؤنڈ اپ اسٹریم سیکٹرمیں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترکیہ پیٹرولیم،یونائیٹڈ انرجی اورینٹ پیٹرولیم اورفاطمہ پیٹرولیم نے شمولیت کی،اوجی ڈی سی ایل،پی پی ایل،ماڑی انرجیز اور پرائم انرجی کامیاب بڈرز میں شامل ہیں۔
امریکی ادارے ڈیگلیور اینڈ میکناٹن نے پاکستان کے سمندری علاقے میں تقریباً 100 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ممکنہ ذخائرکا اندازہ لگایا ہے۔ آف شور راؤنڈ 2025 کے ذریعے پاکستان میں توانائی کے نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے جو ملکی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
پنجاب بار کونسل کی 75 نشستوں کیلئے پولنگ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔