ارجنٹینا میں 7 کروڑ سال پرانا ڈائنوسار کا انڈہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ارجنٹینا میں ماہرین حیاتیات نے پیٹاگونیا کے علاقے میں ایک غیر معمولی طور پر محفوظ شدہ ڈائنوسار کا انڈا دریافت کیا ہے جس کا تخمینہ لگ بھگ 70 ملین سال پرانا ہے۔
یہ قابل ذکر دریافت سائنسدانوں کو دیر سے کریٹاسیئس دور کے دوران زندگی کی ایک نادر اور تفصیلی جھلک پیش کرتی ہے۔
شمالی پیٹاگونیا میں ریو نیگرو کے گرد آلود میدانوں سے دریافت کیا گیا جیواشم والا انڈا سائز اور شکل میں جدید شتر مرغ جیسا ہے۔ اپنی قدیم عمر کے باوجود، انڈے کی حالت تقریباً تازہ رکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ انڈا *Bonapartenykus* نامی ڈائنوسار کی نسل کا ہے، ایک چھوٹا گوشت خور تھیروپوڈ جو کبھی اس علاقے میں آباد تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ جنوبی امریکا میں دریافت ہونے والے ڈائنوسار کے سب سے زیادہ محفوظ انڈوں میں سے ایک ہے۔
ارجنٹائن میوزیم آف نیچرل سائنسز کے ماہر حیاتیات گونزالو میوز نے وضاحت کی کہ شکاری ڈائنوسار کے انڈے انتہائی نایاب ہیں۔ یہ نسلیں سبزی خوروں کے مقابلے میں کم پائی جاتی تھیں، اور ان کے انڈے زیادہ نازک تھے۔ لاکھوں سالوں کے بعد ایسی بہترین حالت میں ایک کو تلاش کرنا واقعی غیر معمولی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔