نیا بلدیاتی ایکٹ خوش آئند، مگر آئینی تحفظ ضروری
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے حال ہی میں نیا بلدیاتی ایکٹ منظور کیا ہے، جسے ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے کہتے ہیں کہ لوکل گورننس کے بہتر نتائج کے لیے نظام کو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے۔
چیئرمین استحقاق کمیٹی نے کہا کہ نئے ایکٹ کے تحت تحصیل کونسلز اور میونسپل کارپوریشنیں مضبوط کی جائیں گی جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل ختم کی جا رہی ہے۔ الیکشن مکمل ہونے کے بعد 60 ہزار سے زائد نمائندے منتخب ہوں گے جو اپنے مسائل خود حل کر سکیں گے۔
ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سینٹر نے بتایا کہ پنجاب میں طویل عرصے بعد بلدیاتی انتخابات ہوں گے، جس سے لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط ہوگا اور عوامی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
سول سوسائٹی کے نمائندے نے کہا کہ بلدیاتی ادارے سیاسی قیادت کے لیے تربیتی پلیٹ فارم ہیں اور نمائندے بنیادی سطح پر مسائل حل کرنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے انتخابات سے پہلے خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں درست اندراج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق نئے ایکٹ میں اختیارات زیادہ تر بیوروکریسی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور خواتین کی نمائندگی کم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے تسلسل کے لیے آئینی تحفظ اور لازمی تربیت ضروری ہے تاکہ گڈ گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔