کراچی: مختلف مقامات سے نوعمر لڑکی سمیت دو افراد کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں مختلف مقامات سے نوعمر لڑکی سمیت دو افراد کی لاشیں ملیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 51 سی میں گھر کی پہلی منزل سے نوعمر لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جس کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش اپنے قبضے میں لیکر شواہد حاصل کرنے کے بعد عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن عرفان آصف نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 11 سالہ آسیہ کے نام سے کی گئی جس کی پڑوسی نے اپنی چھت سے لٹکتی ہوئی لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی ۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کے والدین میں گزشتہ شب جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد بچی کی والدہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔متوفیہ کی لاش ملنے کے وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ تاہم، شبہ ہے کہ آسیہ نے والدین میں ہونے والے جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہو کر گلے میں پھندا کر خودکشی کی ہے۔
تاہم، پولیس دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اس حوالے سے وجہ موت کے تعین کے لیے متوفیہ آسیہ کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد حتمی طور پر ہلاکت کا تعین کیا جا سکے گا۔
دریں اثنا سرجانی ٹاؤن کے علاقے کے سیکٹر 54 سی کے قریب خالی پلاٹ میں پانے سے بھرے ہوئے گڑھے سے ایک شخص کی لاش ملی جس کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچایا۔
پولیس کے مطابق متوفی کی لاش کئی روز پرانی بتائی جاتی ہے جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی جبکہ اس کی عمر 30 سے 35 سال کے قریب بتائی جاتی ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ گڑھے میں بھرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کا معلوم ہوتا ہے۔
تاہم، پولیس مزید چھان بین کر رہی ہے تحقیقات کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرجانی ٹاو ن کی لاش
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں