اگست کے دوران ٹیکسٹائل، خوراک، پیڑولیم اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز کی ایکسپورٹ میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے بڑے برآمدی شعبے اگست 2025ء کے دوران منفی زون میں رہے، ٹیکسٹائل، خوراک، پیڑولیم اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز کے ماہانہ اور سالانہ برآمدی نمبرز میں کمی واقع ہوئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2025ء میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 1ارب 64 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 1ارب 52 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی، ٹیکسٹائل سیکٹر کی ماہانہ برآمدات میں 9فیصد اور سالانہ برآمدات میں 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح شعبہ خوراک میں برآمدات کا تناسب ایک سال میں 35فیصد اور ایک ماہ میں 19فیصد کم ہوا ہے۔ شعبہ خوراک کی برآمدات اگست میں 53 کروڑ 60لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 34کروڑ 80لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔
پیداواری شعبے کی برآمدات اگست 2024 کی بہ نسبت اگست 2025ء میں 37کروڑ ڈالر سے گھٹ 34 کروڑ 40لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی اس طرح سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی برآمدات میں سالانہ 7 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات ایک سال بعد اگست 2025ء میں 2کروڑ 60لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 2کروڑ ڈالر رہی ہے۔ اسی طرح سے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں ایک سال کے دوران 25 فیصد اور ایک ماہ میں 60فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مجموعی طور پر پاکستان کے پانچ بڑے شعبوں کی سالانہ برآمدات 2 ارب 57 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 2ارب 23کروڑ 50لاکھ ڈالر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمدات میں کی برآمدات اگست 2025ء ڈالر سے
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔