22ستمبر: عظیم اسلامی مفکر، مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا 46واں یوم وفات
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔۔ عظیم اسلامی مفکر، جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودو دی رحمة اللہ علیہ کا 46واں یوم وفات 22ستمبر کو منایا جائے گا، اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جبکہ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے جس میں مولانا سیّد ابواعلیٰ مودودیؒ کی عظیم مذہبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔
مولانا سیّد ابواعلیٰ مودودیؒ کا اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے پر حکومت کی جانب سے انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جس پر عالم اسلام کے دباﺅ کے باعث عملدرآمد نہ ہو سکا۔
مولانا کی شاندار دینی خدمات پر انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سیّد مودودیؒ کی تحریر کردہ قرآن مجید کی تفسیر “تفہیم القرآن” کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جس کا انگریزی، عربی، فارسی، فرانسیسی، جرمن، بنگالی، ہندی، جاپانی سمیت 22سے زائد زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔
جبکہ سعودی عرب، سوڈان، اور مصر سمیت متعدد اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں میں مولانا مودودیؒ کی تصانیف نصاب تعلیم میں شامل ہیں۔
مولانا مودودیؒ 22ستمبر 1979ء کو 76برس کی عمر میں امریکہ میں انتقال کر گئے تھے۔ آپ کا جسد خاکی پاکستان لایا گیا تھا جہاں نماز جنازہ کے بعد لاہور میں سپردخاک کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا سی د
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔