ایلون مسک نے وکی پیڈیا کے مقابل متبادل پلیٹ فارم ’گروکی پیڈیا‘ متعارف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
معروف ٹیکنالوجی ماہر اور اسپیس ایکس، ٹیسلا، ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے ایک اور نیا پلیٹ فارم ”گروکی پیڈیا“ متعارف کرا دیا ہے جو کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو وکی پیڈیا کا متبادل قرار دیا گیا ہے
امریکی ٹیکنالوجی ’ایکس اے آئی‘ نے اپنا نیا آن لائن انسائیکلوپیڈیا ”گروکی پیڈیا“ لانچ کیا ہے، جس میں 8 لاکھ 85 ہزار مضامین شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ مضامین مصنوعی ذہانت ماڈل گروک اے آئی (Grok AI) نے مختلف بنیادی ذرائع اور لائسنس یافتہ مواد کو ملا کر تیار کیے ہیں۔
گروکی پیڈیا کو اوپن سورس بنایا گیا ہے، جہاں صارفین غلطیوں کی نشاندہی کے لیے ’Its Wrong‘ (یہ غلط ہے) بٹن استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ ہر مضمون میں ایڈٹ ہسٹری اور فیکٹ چیک ٹائم اسٹیمپ جیسی خصوصیات بھی شامل ہیں۔
ایلون مسک کے مطابق گروکی پیڈیا کے مضامین ’گروک اے آئی‘ ماڈل کے ذریعے تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’گروکی پیڈیا کا مقصد ’صرف اور صرف سچ پیش کرنا‘ ہے۔
خیال رہے کہ وکی پیڈیا 2001 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ایک رضاکارانہ منصوبہ ہے جسے عطیات سے چلایا جاتا ہے اور دنیا بھر کے صارفین اس پر اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔ وکی پیڈیا کا مؤقف ہے کہ اس کا مواد ’غیر جانب دار نقطہ نظر‘ پر مبنی ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک طویل عرصے سے وکی پیڈیا پر تنقید کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکی پیڈیا جانب دار اور ’بائیں بازو کے نظریات کے زیرِ اثر‘ ہے اور اس کی ادارت میں ’سیاسی تعصب‘ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے 2024 میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ وکی پیڈیا کو عطیات دینا بند کر دیں۔
گروکی پیڈیا کے ابتدائی ورژن 0.
وکی میڈیا فاؤنڈیشن نے گروکی پیڈیا کی لانچنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وکی پیڈیا انسانوں کی کاوش ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ اے آئی کمپنیاں بھی اسی انسانی علم پر انحصار کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ گروکی پیڈیا کو بھی تربیت کے لیے وکی پیڈیا کے مواد کی ضرورت پڑی۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ گروکی پیڈیا ایک نئی سمت ضرور ہے، لیکن فی الحال اس کے بیشتر مضامین کا انحصار اسی پلیٹ فارم پر ہے جسے مسک ”متعصب“ کہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی موضوعات پر کچھ تعصبات موجود ہیں اور اے آئی سے ممکنہ غلطیوں کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایلون مسک پلیٹ فارم اے آئی
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔