دنیا بھر میں اسکولوں پر حملوں میں 44 فیصد اضافہ تشویشناک ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یومِ تحفظِ تعلیم پر پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں اسکولوں پر حملوں میں 44 فیصد اضافہ تشویشناک ہے۔
مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تعلیم پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے، چاہتے ہیں کہ کوئی بچہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسکول جانے پر مجبور نہ ہو، سندھ حکومت بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول دینے کے لیے پرعزم ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان "Safe Schools Declaration" پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، تعلیم صرف فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ترقی کی بنیاد ہے، دنیا بھر میں تعلیمی اداروں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں،
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2024ء میں بچوں کے خلاف 41 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، دنیا بھر کے ممالک، اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ کھڑا ہوں، بچوں کو جنگ اور دہشت گردی کا شکار بنانے کے بجائے قلم دیا جائے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے تحفظ تعلیم کے عالمی دن پر پیغام میں کہا کہ تعلیم پر حملہ دراصل انسانیت اور مستقبل پر حملہ ہے، 9 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم کا چراغ بجھنے نہیں دینا۔
انہوں نے کہا کہ اسکول، اساتذہ اور طلبہ کا تحفظ دنیا کی اجتماعی ذمہ داری ہے، تعلیم کو ہر حال میں جنگ، انتہا پسندی اور تشدد سے محفوظ رکھنا ہوگا، ترقی، امن اور خوشحالی کا راستہ صرف محفوظ تعلیم سے گزرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔