پی اے سی اجلاس، اختیارات سے تجاوز پر محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کا افسر معطل
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اختیارات سے تجاوز کرکے محکمے کے سیکریٹری کے بجائے آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے والے محکمہ کالج ایجوکیشن کے سیکشن افسر جنرل ایڈمنسٹریشن کو معطل کردیا۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا، جس میں محکمہ کالج ایجوکیشن کے ورکس سروسز کے متعلق 2024-2025 کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں محکمہ کالج ایجوکیشن ورکس کے افسران کی جانب سے مکمل آڈٹ پیراز کے متعلق ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر برہمی اور افسران کی کارکردگی پر عدم اعتماد اور آڈٹ کے ورکنگ پیپرز پر محکمے کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر (سیکریٹری) کے دستخط کے بجائے محکمے کے سیکشن افسر جنرل اور ڈی ڈی او کے دستخط موجود ہونے پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو نے استفسار کیا کہ آڈٹ کے ورکنگ پیپرز پر سیکریٹری کے بجائے سیکشن افسر نے دستخط کیوں کیے ہیں،آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے کا مجاز محکمے کا سیکریٹری ہے سیکشن افسر یا ڈی ڈی او نہیں ہے۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے محکمے کے سیکریٹری کے بجائے سیکشن افسر نے آڈٹ کے کاغذات پر دستخط کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
پی اے سی نے اختیارات سے تجاوز کرکے محکمے کے سیکریٹری کے بجائے آڈٹ ورکنگ پیپرز پر دستخط کرنے والے محکمہ کالج ایجوکیشن کے سیکشن افسر جنرل ایڈمنسٹریشن اور ڈی ڈی او غلام مصطفی کو معطل کردیا اور محکمے کے سیکریٹری کو حکم دیا گیا کہ پی اے سی کے لیے کسی 19 ویں گریڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری کو فوکل پرسن نامزد کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ کالج ایجوکیشن اختیارات سے تجاوز محکمے کے سیکریٹری سیکریٹری کے بجائے ورکنگ پیپرز پر سیکشن افسر پی اے سی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔