اسلام آباد:

گزشتہ سال محروم رہ جانے والے عازمین حج کی رجسٹریشن کا آج آخری روز ہے، اس سال حج پر جانے کے خواہش مندوں کیلئے آخری موقع ہے اور پورٹل آج بند ہوجائے گا۔

وزات مذہبی امور کے مطابق رہ جانے والے حاجی آج رات بارہ بجے تک رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، گزشتہ برس رہ جانے والے 22 ہزار 97 عازمین اب تک رجسٹریشن کراچکے ہیں، وزرات مذمبی امور نے سیلاب کے باعث رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی تھی۔

ذرائع وزرات مذہبی امور کے مطابق پرائیویٹ حج آپریٹرز گزشتہ برس کے عازمین کو پہلے موقع دیں گے، باقی بچ جانے والے کوٹا پر کمپنی کو نئے عازمین کی بکنگ کی اجازت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ برس کے عازمین کسی اضافی اخراجات کے بغیر حج کرسکیں گے، منظمہ کمپنی کیلئے بھی عازمین کی تفصیلات اور رقوم منتقلی کا آج آخری روز، منظمہ کمپنی کو گزشتہ برس کے عازمین کی رقوم سعودی عرب منتقلی کا ثبوت دینا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق بینکنگ چینلز سے رقوم منتقلی کا ثبوت نہ دینے پر کمپنی کے خلاف کارروائی ہوگی، منظمہ کمپنیوں کا کوٹا منسوخ کرنے سمیت بھاری جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے، وزرات نے 12 کمپنیوں کو رقوم بینکنگ چینلز کے ذریعے نہ بھجنے پر نوٹس کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہ جانے والے گزشتہ برس کے مطابق

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس