قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ ادارے نے گزشتہ 2 سال 7 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 8 کھرب 40 ارب روپے کی ریکوری کی، جب کہ اسی مدت میں نیب کا بجٹ صرف 15 ارب 33 کروڑ روپے رہا۔

سینیئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہاکہ اس عرصے میں نیب نے ہر ایک روپے کے خرچ کے بدلے 548 روپے کی ریکوری کی، جو ادارے کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے ریکوری کا ریکارڈ قائم کردیا، 2025 کی تیسری سہ ماہی میں1100 ارب وصول

انہوں نے بتایا کہ نیب کی گزشتہ 23 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر 883 ارب روپے کی ریکوری ہوئی تھی، تاہم حالیہ 2 سال 7 ماہ میں اس سے کہیں زیادہ رقوم واپس حاصل کی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ میں ترامیم کے بعد ادارے میں وسیع اصلاحات کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں نیب کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

چیئرمین نیب کے بقول اب نیب ایک تبدیل شدہ ادارہ ہے، جس نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر بہتر نظام وضع کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے میں ایس او پیز متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کے تحت جھوٹی یا بوگس شکایات درج کرانے والوں کے خلاف کارروائی کا میکنزم بنایا گیا ہے۔ اس اقدام سے بلیک میلنگ اور بے بنیاد شکایات کے رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق نیب کے اندر انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سیل قائم کیا گیا ہے جبکہ تمام ریجنل بیوروز ماہ میں ایک بار کھلی کچہری لگاتے ہیں تاکہ عوامی شکایات براہ راست سنی جا سکیں۔ شکایت کنندگان کے لیے فیڈبیک سسٹم اور ایک جامع پرفارما بھی تیار کیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب نے بتایا کہ ادارہ اب ڈیجیٹلائزیشن کی طرف منتقل ہوچکا ہے اور تحقیقات میں جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

’اب مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر ملزم کو سنے جانے کا حق دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو شکایات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ نیب میں شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے آن لائن بیان دینے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔‘

چیئرمین نیب کے مطابق، ادارے کے خلاف جو خوف ماضی میں پایا جاتا تھا، اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ اب نیب سرکاری افسران، پارلیمنٹرینز یا اسمبلی کے ارکان کو براہ راست نوٹس جاری نہیں کرتا، بلکہ سرکاری افسران سے متعلق شکایات متعلقہ چیف سیکریٹری یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔

کاروباری طبقے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیب نے اعتماد سازی کی فضا قائم کردی ہے اور تمام چیمبرز آف کامرس کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے ہیں۔

چیئرمین نیب نے مزید بتایا کہ وفاقی، صوبائی اداروں اور عدالتوں کی جانب سے موصولہ شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جاتا ہے، جب کہ عوامی سطح پر فراڈ کے مقدمات کو بھی فوری توجہ دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق نیب نے وفاقی اور صوبائی محکموں کے تعاون سے اب تک 45 لاکھ ایکڑ سے زیادہ سرکاری زمین واگزار کرائی ہے، جس کی مجموعی مالیت 853 ارب روپے بنتی ہے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ اس میں 30 لاکھ 52 ہزار 533 ایکڑ جنگلات کی زمین، 13 لاکھ 99 ہزار 337 ایکڑ مینگرووز لینڈ، 38 ہزار 644 ایکڑ ریونیو اتھارٹیز، اور این ایچ اے کی 1228 ایکڑ زمین شامل ہے۔

’مزید برآں اسلام آباد کے ای الیون پراجیکٹ میں 51 ایکڑ زمین جس کی مالیت 29 ارب روپے بنتی ہے، بھی واگزار کرائی گئی۔

صوبوں کی سطح پر تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں 10 لاکھ 33 ہزار 833 ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی، سندھ میں 34 لاکھ 72 ہزار 942 ایکڑ، پنجاب میں 24 ہزار 598 ایکڑ، اور خیبر پختونخوا میں 3 ہزار 72 کنال زمین واگزار کرائی گئی۔

چیئرمین نیب نے بتایا کہ ادارے نے اپنی ریکوری میں سے 6 ارب 57 کروڑ روپے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے۔

چیئرمین نیب نے رہائشی منصوبوں کے متاثرین کو ریلیف کے حوالے سے بتایا کہ ایک لاکھ 21 ہزار 635 متاثرین کو ان کے واجبات واپس دلوائے گئے، جن کی مجموعی مالیت 124 ارب 86 کروڑ روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب سے ریکوری سے متعلق سوال نہ کرنے کے لیے چیئرمین پی اے سی کو کس کا فون آیا؟

انہوں نے واضح کیاکہ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ میں ہمیشہ عوامی مفاد کو مقدم رکھا جاتا ہے، اور کوڑیوں کے بھاؤ تصفیے کا تاثر سراسر غلط ہے۔

چیئرمین نیب نے کہاکہ اگر پاکستان سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہو جائے تو اس ملک کو کسی قرضے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بدعنوانی چیئرمین نیب ریکوری قومی احتساب بیورو کرپشن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بدعنوانی چیئرمین نیب ریکوری قومی احتساب بیورو وی نیوز روپے کی ریکوری چیئرمین نیب نے واگزار کرائی بتایا کہ ارب روپے انہوں نے نے کہاکہ کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف