پاکستان میں آئندہ حج سستا ہونے کا امکان، سعودی کمپنی نے اخراجات میں کمی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی المعراجی طوافہ کمپنی کی جانب سے اخراجات میں کمی کے بعد حکومتِ پاکستان آئندہ حج 2026 کے پیکیج میں لاگت کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی کمپنی نے فی حاجی 200 ریال (قریباً 53 ڈالر) کم بولی دی ہے، جس سے پاکستانی عازمین کے لیے مجموعی اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: 2025 کی بچت کی رقم حجاج کو واپس، حج 2026 کے پیکیجز کا اعلان
پاکستانی حج اسکیم کے تحت سرکاری پیکیج کی موجودہ لاگت 11 لاکھ 50 ہزار سے 12 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان ہے، جو حتمی معاہدوں کے بعد طے پائے گی۔
سردار یوسف نے کہا کہ جو رقم بچائی جائے گی، وہ حاجیوں کو واپس کی جائے گی۔ رواں برس بھی اصل اخراجات اندازے سے کم آنے پر 66 ہزار عازمین کو 12.
مزید پڑھیں: آٹو فنانسنگ میں مسلسل 10ویں ماہ اضافہ، کل حجم 305 ارب روپے تک پہنچ گیا
سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر سید عطاالرحمٰن کے مطابق المعراجی کمپنی کی فراہم کردہ سہولیات میں ائیر کنڈیشنڈ خیمے اور آرام دہ بستر شامل تھے، جو پاکستانی عازمین کے لیے اطمینان بخش رہیں، جنہیں وزیرِاعظم پاکستان نے بھی سراہا۔
وزیرِ مذہبی امور نے کہا کہ آئندہ سال کا حج مزید بہتر، شفاف اور حاجیوں کے لیے آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔