وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے ملاقات پر اظہار مسرت، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانےکے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کرکے بے حد خوشی ہوئی۔وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ملاقات میں تجارتی، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینےکے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے برادرانہ تعلقات کی دیرپا مضبوطی کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کا غیر متزلزل حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ وہ سعودی ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دونوں ممالک اور عوام کے درمیان گہری شراکت داری اور خوشحالی کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔یاد رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔قصر یمامہ پہنچنے پر محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعظم سعودی ولی عہد کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب کے دورے پر پہنچے ہیں، وزیراعظم فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹوکی نویں کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سعودی ولی عہد شہباز شریف
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں