وزیر اعظم کی ترکمانستان میں ترک صدر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اشک آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی آج اشک آباد میں بین الاقوامی فورم کے موقع پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ترکیہ اور پاکستان کے مابین تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
رواں برس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قیادت کی سطح پر ہونے والے مسلسل روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے پاک ترک جے ایم سی کے 16 ویں اجلاس کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا جو 7ویں HLSCC کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
توانائی، پیٹرولیم اور معدنیات کے ترجیحی شعبوں میں ترکیہ کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا وزیرِ اعظم نے خیرمقدم کیا، وزیرِ اعظم نے اہم شعبوں میں حال ہی میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کے اس شعبے میں تجربے سے مستفید ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے تبادلے بہت جلد ہوں گے۔
وزیراعظم نے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیا جس میں اسلام آباد- تہران۔ استنبول ریل نیٹ ورک کی بحالی شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے صدر ایردوان کی جرات مندانہ قیادت اور غزہ میں امن کی کوششوں کے لیے مضبوط عزم تعریف کی۔
انہوں نے پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے میں ترکی کے تعمیری کردار کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ امن تب ہی ممکن ہو گا جب پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو پوری طرح سے حل کیا جائے۔
صدر ایردوان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے نیک خواہشات کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے درمیان ترکیہ کے کا اظہار
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔