سینیٹر عطاالرحمن کی زیر صدارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-01-2
اسلام آباد (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس سینیٹر عطاالرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر بشری انجم بٹ، سینیٹر حسنی بانو، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر محمد اسلم ابڑو، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور وزارت کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کردہ دی مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل2024 پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس کے دوران وزارتِ مذہبی امور نے نشاندہی کی کہ مجوزہ بل کی چند دفعات پر مزید غور بالخصوص اس شق پر جس میں کہا گیا ہے کہ باپ بچے کی مالی ذمہ داری اس وقت تک اٹھائے گا جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا ،کی ضرورت ہے۔ وزارت نے وضاحت کی کہ موجودہ قوانین کے مطابق باپ پہلے ہی نابالغ یا معذور بچے کے اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہیلہذا اس شق کا ازسرِنو جائزہ لینا ضروری ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ترمیم کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طلاق کی صورت میں اگر بچہ مالی یا ذہنی طور پر مستحکم نہیں ہیتو یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کی کفالت اور مالی ذمہ داری کس کے ذمے ہوگی اور ایسے بچے کا مستقبل کیا ہوگا۔تفصیلی مشاورت کے بعد سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے وزارت سے درخواست کی کہ وہ اپنے اعتراضات اور مجوزہ بل کے حوالے سے تفصیلی تحریری جواب فراہم کرے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے لئے ایک علیحدہ اجلاس بلایا جائے۔یہ بھی بتایا گیا کہ لا ڈویژن نے بل پر کچھ اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔