Juraat:
2026-06-03@02:42:19 GMT

پی ٹی آئی نے نااہلی سے متعلق دائر اپیلیں واپس لے لیں

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

پی ٹی آئی نے نااہلی سے متعلق دائر اپیلیں واپس لے لیں

چیئرمین پی ٹی آئی کی شبلی فراز کی نااہلی کی اپیل پر عدالت سے نوٹس جاری کرنے کی استدعا
عمرایو ب انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، اس لئے اپیل واپس لے رہے ہیں، بیرسٹرگوہر

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے عمر ایوب اور شبلی فراز سے متعلق دائر اپیلیں واپس لے لیں۔سپریم کورٹ میں عمر ایوب اور شبلی فراز کے خلاف دائر نااہلی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت کو بتایا کہ عمر ایوب کی ہدایت پر ان کی نااہلی کے خلاف اپیل واپس لی جا رہی ہے، کیونکہ وہ خود انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمر ایوب کی نشست پر ان کی اہلیہ انتخابات میں حصہ لیں گی۔اسی دوران شبلی فراز کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر اپیل بھی واپس لے لی گئی تاہم بیرسٹر گوہر نے شبلی فراز کی نااہلی کی اپیل پر عدالت سے نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی۔عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 29 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔عدالت نے کہا کہ شبلی فراز کی خالی نشست پر 30 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے ہیں، اس لیے کیس 29 اکتوبر کو سنا جائے گا۔سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان نے سرنڈر کر دیا ہے؟ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمر ایوب اور شبلی فراز نے تاحال سرنڈر نہیں کیا۔بیرسٹر گوہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف اپیل بھی واپس لی جا رہی ہے، کیونکہ محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری ہو چکا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے سوال کیا کہ حفاظتی ضمانت کے بعد کیا عمر ایوب نے سرنڈر کیا؟ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ سرنڈر نہیں کیا گیا اور کیس سول نوعیت کا ہے، فوجداری نہیں۔جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ ضمنی الیکشن کب ہیں، جس پر بتایا گیا کہ 30 اکتوبر کو انتخابات ہوں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیٔے کہ الیکشن کے لیے بہت مختصر وقت ہے اور کیس 29 اکتوبر کو مقرر کر دیا گیا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے اکتوبر کو شبلی فراز عدالت نے عمر ایوب کے خلاف واپس لے کیا کہ

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار