ایران اور عمان خطے کے نشیب و فراز میں ہمیشہ ایک ساتھ رہے ہیں، ڈاکٹر پزیشکیان
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
تہران میں صدر نے کہا کہ اگر تمام اسلامی ممالک اسی طرح کے جذبۂ اخوت اور غیرتِ ایمانی کے ساتھ اہلِ غزہ کا ساتھ دیتے، تو آج ہمیں اس خطے میں ایسے دردناک اور شرمناک مناظر نہ دیکھنے پڑتے، ہم مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران اور عمان کے درمیان گہرے اور دیرینہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اور اقوام کے روابط ہمیشہ برادری، باہمی احترام اور نیک نیتی کی بنیاد پر قائم رہے ہیں، اور خطے کے تمام نشیب و فراز میں دونوں ایک دوسرے کے حقیقی شریک و مددگار رہے ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صدر پزشکیان سے تہران میں عمان کے وزیرِ داخلہ حمود بن فیصل بن سعید البوسعیدی نے ملاقات کی۔
ملاقات میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عمان کے تعلقات کی تاریخ گہرے اعتماد، اخلاص اور خیرسگالی سے عبارت ہے۔ انہوں نے خطے میں عمان کے تعمیری اور مصالحتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران و امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور عمان کی دانشمندانہ اور صلح جو پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ عمان کی جانب سے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت اور صہیونی جرائم کی مذمت ایک قابلِ احترام اسلامی و انسانی موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام اسلامی ممالک اسی طرح کے جذبۂ اخوت اور غیرتِ ایمانی کے ساتھ اہلِ غزہ کا ساتھ دیتے، تو آج ہمیں اس خطے میں ایسے دردناک اور شرمناک مناظر نہ دیکھنے پڑتے، ہم مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نبیِ مکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں تو امتِ اسلامی ایک عظیم طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہے جو مسلمانوں کے مفادات اور ان کی سلامتی کی ضامن ہو گی، اور اسلامی سرزمینوں پر کسی بھی جارحیت کو روک سکے گی۔ پزشکیان نے امید ظاہر کی کہ عمان کے وزیرِ داخلہ کا یہ دورہ تہران میں دوطرفہ تعلقات کے مزید استحکام کا باعث بنے گا، ایران علمی، اقتصادی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی شعبے میں عمان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
عمان کے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ایران اور عمان کے تعلقات منفرد، تاریخی اور خلوص پر مبنی ہیں، جن پر کسی قسم کا شک یا بدگمانی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ماہ قبل صدر پزشکیان کے مسقط کے دورے اور اس کے نتیجے میں طے پانے والے اہم معاہدات دونوں ممالک کے تعلقات کے روشن مستقبل کی علامت ہیں، ایران اور عمان کے درمیان یہ گہرے اور پُرخلوص تعلقات اسی جذبے اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے، اور ہم ان کے مزید استحکام و وسعت کے لیے پوری سنجیدگی سے کوشش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران اور عمان کے پزشکیان نے نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔