پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
چیف آف آرمی اسٹاف چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے اسلام آبد میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران انڈونیشئین صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے باہمی دلچسپی کے امور علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر اور انڈونیشین صدر نے دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کا اعادہ کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ تربیت، انسداد دہشتگردی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب انڈونیشئین صدر کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، اور علاقائی امن اور سلامتی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انڈونیشیا کے فیلڈ مارشل چیف آف
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔