Islam Times:
2026-07-24@04:24:34 GMT

مقاومتی محاذ، قابل فخر میراث

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

مقاومتی محاذ، قابل فخر میراث

اسلام ٹائمز: اسلامی جمہوریہ نے کئی دہائیوں میں استعمار طاقتوں کیخلاف ایک منظم بارعب نظام تشکیل دیا ہے، جو تزویراتی خودمختاری اور علاقائی مزاحمتی اتحادات پر مبنی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پرامن جوہری توانائی کے منصوبے، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، اسی دفاعی نظریے کے ستون ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی مزاحمتی تحریک کے تناظر میں، ایران نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صہیونی دشمن کے خلاف کئی محاذ کھولے، جس سے غزہ پر دباؤ کم ہوا اور مزاحمت کا اتحاد مستحکم ہوا۔ تحریر: عارف حسین علی‌ جانی
(بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ریسرچ کر رہے ہیں)

ایران نے اپنی میراث کیسے محفوظ کی ہے اور تہران کا تزویراتی عزم کیسے ایک بارعب قوت کے طور علاقائی قیادت کے نئے دور کا آغآز ہے؟ ذیل کے نکات سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

۱.

حملوں کے باوجود استقلال:
اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنی خودمختاری کا کامیاب دفاع کیا ہے، جب 12 جون کو صہیونی ریاست کے غیرقانونی اور اشتعال‌ انگیز حملوں نے ایرانی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ حملے ایرانی قوم اور اس کے انقلابی محافظوں کا حوصلہ توڑنے کے اپنے بنیادی مقصد میں ناکام رہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت‌ اللہ سید علی خامنہ‌ای، بدستور امت مسلمہ کی مزاحمتی قیادت کے محور ہیں۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل حسین سلامی کی شہادت نے قوم کے حوصلے اور اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔

۲. بارعب تزویراتی نظام کی تعمیر:
اسلامی جمہوریہ نے کئی دہائیوں میں استعمار طاقتوں کیخلاف ایک منظم بارعب نظام تشکیل دیا ہے، جو تزویراتی خودمختاری اور علاقائی مزاحمتی اتحادات پر مبنی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پرامن جوہری توانائی کے منصوبے، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، اسی دفاعی نظریے کے ستون ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی مزاحمتی تحریک کے تناظر میں، ایران نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صہیونی دشمن کے خلاف کئی محاذ کھولے، جس سے غزہ پر دباؤ کم ہوا اور مزاحمت کا اتحاد مستحکم ہوا۔

۳. مزاحمتی اتحاد کی ساخت
۱۹۷۹ کے انقلاب اسلامی کے بعد سے ایران نے ہم‌ فکر عوامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ دیرپا تعلقات استوار کیے، جیسے حماس (فلسطین)، حزب‌اللہ (لبنان)، انصاراللہ (یمن)، الحشد الشعبی (عراق) اور بشار الاسد حکومت کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد۔ ایران ان گروہوں کو "پراکسیز" نہیں بلکہ برابر کے اتحادی سمجھتا ہے جو آزادی اور وقار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ایران کو تزویراتی گہرائی اور بارعب قوت فراہم کرتا ہے۔

۴. صبرِ تزویراتی (Strategic Patience)
ایران نے امریکی اقتصادی جنگ (2018–2023) کے باوجود صبر اور استقلال کے ساتھ اپنی طاقت قائم رکھی۔ جوہری معاہدہ (JCPOA) کی یکطرفہ امریکی خلاف‌ورزی کے بعد بھی ایران نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مزاحمت کی۔ 2023 تک، ایران نہ صرف پابندیوں سے نکل آیا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اسی عرصے میں، مزاحمتی محور نے صہیونی جارحیت کو روکنے کی عملی صلاحیت حاصل کی۔

۵. براہِ راست مزاحمت اور میزائل حملے (2024)
ایران کے دو تاریخی میزائل حملے اپریل اور اکتوبر 2024 ایران کی براہِ راست دفاعی صلاحیت اور عزم کا مظہر تھے۔ ان حملوں نے "اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر" ہونے کے تصور کو توڑ دیا اور نیا سرخ خط (Red Line) قائم کیا۔ دنیا کو پیغام دیا گیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب براہِ راست اور بھرپور ہوگا۔

۶. شہداء کی میراث اور قومی استقامت
جنرل حسین سلامی کے الفاظ آج حقیقت بن چکے ہیں: "جو قوم مزاحمت کا پرچم بلند کرے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔" ایرانی عوام اور سپاہ پاسداران نے اپنے شہداء کے خون کو تحریکِ مزاحمت کی نئی توانائی میں بدل دیا۔ ایران کے دفاعی نظام، ایئر ڈیفنس اور میزائل صلاحیتیں محفوظ اور فعال ہیں، اور جوہری پروگرام بدستور پرامن راستے پر جاری ہے۔

۷. خودانحصاری اور مزاحمتی قیادت
ایران کی دفاعی حکمتِ عملی: قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں؛ دفاعی پروگرام ناقابلِ گفت‌وگو؛ مظلوم اقوام (خصوصاً فلسطین) کی حمایت اصولی پالیسی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جوہری اور میزائل سرگرمیاں اس کے خودمختار حقوق کا حصہ ہیں، اور مزاحمتی بلاک، محورِ مقاومت اب علاقائی توازن کا ضامن ہے۔

۸. نتیجہ
ایران کی تزویراتی استقلال، بازدار صلاحیت، اور مزاحمتی اتحاد نے اسے خطے میں ایک فیصلہ‌ ساز طاقت بنا دیا ہے۔ صہیونی ریاست کے حالیہ حملے دراصل اس کے خوف اور کمزوری کی علامت ہیں۔ ایران آج خودمختار، متحد، اور مضبوط ہے اور اس کی مزاحمتی میراث آنے والے عشروں تک محفوظ و مستحکم رہے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مزاحمتی اتحاد اور مزاحمت ایران کے ایران نے کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم