Islam Times:
2026-06-03@05:01:18 GMT

مقاومتی محاذ، قابل فخر میراث

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

مقاومتی محاذ، قابل فخر میراث

اسلام ٹائمز: اسلامی جمہوریہ نے کئی دہائیوں میں استعمار طاقتوں کیخلاف ایک منظم بارعب نظام تشکیل دیا ہے، جو تزویراتی خودمختاری اور علاقائی مزاحمتی اتحادات پر مبنی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پرامن جوہری توانائی کے منصوبے، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، اسی دفاعی نظریے کے ستون ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی مزاحمتی تحریک کے تناظر میں، ایران نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صہیونی دشمن کے خلاف کئی محاذ کھولے، جس سے غزہ پر دباؤ کم ہوا اور مزاحمت کا اتحاد مستحکم ہوا۔ تحریر: عارف حسین علی‌ جانی
(بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ریسرچ کر رہے ہیں)

ایران نے اپنی میراث کیسے محفوظ کی ہے اور تہران کا تزویراتی عزم کیسے ایک بارعب قوت کے طور علاقائی قیادت کے نئے دور کا آغآز ہے؟ ذیل کے نکات سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

۱.

حملوں کے باوجود استقلال:
اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنی خودمختاری کا کامیاب دفاع کیا ہے، جب 12 جون کو صہیونی ریاست کے غیرقانونی اور اشتعال‌ انگیز حملوں نے ایرانی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ حملے ایرانی قوم اور اس کے انقلابی محافظوں کا حوصلہ توڑنے کے اپنے بنیادی مقصد میں ناکام رہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت‌ اللہ سید علی خامنہ‌ای، بدستور امت مسلمہ کی مزاحمتی قیادت کے محور ہیں۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل حسین سلامی کی شہادت نے قوم کے حوصلے اور اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔

۲. بارعب تزویراتی نظام کی تعمیر:
اسلامی جمہوریہ نے کئی دہائیوں میں استعمار طاقتوں کیخلاف ایک منظم بارعب نظام تشکیل دیا ہے، جو تزویراتی خودمختاری اور علاقائی مزاحمتی اتحادات پر مبنی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پرامن جوہری توانائی کے منصوبے، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، اسی دفاعی نظریے کے ستون ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی مزاحمتی تحریک کے تناظر میں، ایران نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صہیونی دشمن کے خلاف کئی محاذ کھولے، جس سے غزہ پر دباؤ کم ہوا اور مزاحمت کا اتحاد مستحکم ہوا۔

۳. مزاحمتی اتحاد کی ساخت
۱۹۷۹ کے انقلاب اسلامی کے بعد سے ایران نے ہم‌ فکر عوامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ دیرپا تعلقات استوار کیے، جیسے حماس (فلسطین)، حزب‌اللہ (لبنان)، انصاراللہ (یمن)، الحشد الشعبی (عراق) اور بشار الاسد حکومت کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد۔ ایران ان گروہوں کو "پراکسیز" نہیں بلکہ برابر کے اتحادی سمجھتا ہے جو آزادی اور وقار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ایران کو تزویراتی گہرائی اور بارعب قوت فراہم کرتا ہے۔

۴. صبرِ تزویراتی (Strategic Patience)
ایران نے امریکی اقتصادی جنگ (2018–2023) کے باوجود صبر اور استقلال کے ساتھ اپنی طاقت قائم رکھی۔ جوہری معاہدہ (JCPOA) کی یکطرفہ امریکی خلاف‌ورزی کے بعد بھی ایران نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مزاحمت کی۔ 2023 تک، ایران نہ صرف پابندیوں سے نکل آیا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اسی عرصے میں، مزاحمتی محور نے صہیونی جارحیت کو روکنے کی عملی صلاحیت حاصل کی۔

۵. براہِ راست مزاحمت اور میزائل حملے (2024)
ایران کے دو تاریخی میزائل حملے اپریل اور اکتوبر 2024 ایران کی براہِ راست دفاعی صلاحیت اور عزم کا مظہر تھے۔ ان حملوں نے "اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر" ہونے کے تصور کو توڑ دیا اور نیا سرخ خط (Red Line) قائم کیا۔ دنیا کو پیغام دیا گیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب براہِ راست اور بھرپور ہوگا۔

۶. شہداء کی میراث اور قومی استقامت
جنرل حسین سلامی کے الفاظ آج حقیقت بن چکے ہیں: "جو قوم مزاحمت کا پرچم بلند کرے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔" ایرانی عوام اور سپاہ پاسداران نے اپنے شہداء کے خون کو تحریکِ مزاحمت کی نئی توانائی میں بدل دیا۔ ایران کے دفاعی نظام، ایئر ڈیفنس اور میزائل صلاحیتیں محفوظ اور فعال ہیں، اور جوہری پروگرام بدستور پرامن راستے پر جاری ہے۔

۷. خودانحصاری اور مزاحمتی قیادت
ایران کی دفاعی حکمتِ عملی: قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں؛ دفاعی پروگرام ناقابلِ گفت‌وگو؛ مظلوم اقوام (خصوصاً فلسطین) کی حمایت اصولی پالیسی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جوہری اور میزائل سرگرمیاں اس کے خودمختار حقوق کا حصہ ہیں، اور مزاحمتی بلاک، محورِ مقاومت اب علاقائی توازن کا ضامن ہے۔

۸. نتیجہ
ایران کی تزویراتی استقلال، بازدار صلاحیت، اور مزاحمتی اتحاد نے اسے خطے میں ایک فیصلہ‌ ساز طاقت بنا دیا ہے۔ صہیونی ریاست کے حالیہ حملے دراصل اس کے خوف اور کمزوری کی علامت ہیں۔ ایران آج خودمختار، متحد، اور مضبوط ہے اور اس کی مزاحمتی میراث آنے والے عشروں تک محفوظ و مستحکم رہے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مزاحمتی اتحاد اور مزاحمت ایران کے ایران نے کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان