WE News:
2026-07-24@05:30:17 GMT

دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی خطرہ بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی خطرہ بڑھ گیا

بھارت کی جانب سے ایک بار پھر دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد سیلابی صورتحال سنگین ہونے لگی ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے، تاہم یہ عمل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

ہریکے اور فیروزپور کے مقامات پر دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا الرٹ

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے عوام کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کردیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ سول انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے، جس سے نشیبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج درمیانے درجے کے سیلاب کی لپیٹ میں

پنجاب سے آنے والا پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا ہے جس کے باعث گڈو اور سکھر بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (FFD) کے مطابق صبح 7 بجے تک کی صورتحال میں گڈو بیراج پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 40 ہزار کیوسک سے زائد رہا، جبکہ سکھر بیراج پر یہ بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے اوپر ہے۔ دونوں مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔

اس سے قبل پنجند کے مقام پر، جہاں پنجاب کے بڑے دریا آپس میں ملتے ہیں، نہایت اونچے درجے کا سیلاب دیکھا گیا۔ اسی طرح ستلج پر گنڈا سنگھ والا اور راوی پر سدھنائی کے مقامات پر پانی کی سطح ’انتہائی بلند‘ ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بہاؤ بڑھنے کی صورت میں سندھ کے نشیبی علاقے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت دریائے ستلج سیلاب دریائے ستلج میں

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن