لاہور پولیس نے اسنوکر کلب پر کارروائی، ایم پی اے کے بیٹے سمیت کئی ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
سابق خاتون ایم پی اے پر مبینہ پولیس تشدد کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے نوٹس لے کر انکوائری کا حکم دے دیا جبکہ پولیس ترجمان نے کہا کہ خاتون ایم پی اے کا بیٹا اسنوکر کلب میں جوا کھیلتے گرفتار ہوا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی اور مبینہ واقعہ کے تمام شواہد بشمول ویڈیوز سے انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ ترجمان لاہور پولیس نے کہا کہ مبینہ تشدد کی انکوائری شروع کردی گئی جب کہ دیگر تمام الزامات حقائق کے منافی ہیں، خاتون ایم پی اے کا بیٹا اسنوکر کلب میں جوا کھیلتے گرفتار ہوا، ارسلان دو روز قبل 90 اسنوکر کلب میں 12 دیگر ملزمان کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ ترجمان پولیس نے کہا کہ مذکورہ اسنوکر کلب اور گرفتار دیگر ملزمان سابقہ جوئے میں ریکارڈ یافتہ ہیں، خاتون کا ایک بیٹا گزشہ ماہ موٹر سائیکل سے گر کر جاں بحق ہوا جس کا مقدمہ درج ہے، اسنوکر کلب سے دوسرے بیٹے کی گرفتاری کو پہلے بیٹے کے مقدمہ قتل پر دباؤ سے جوڑنا بے بنیاد ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خاتون ایم پی اے نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، سابق ایم پی اے اور اس کے شوہر نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے پولیس والوں سے شدید بدسلوکی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔