سی ڈی اے بورڈ کا 16واں اجلاس،قبر کھدائی اور میت بس کے چارجز معاف کرنے کے فیصلہ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
سی ڈی اے بورڈ کا 16واں اجلاس،قبر کھدائی اور میت بس کے چارجز معاف کرنے کے فیصلہ کی منظوری WhatsAppFacebookTwitter 0 18 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت جمعرات کے روز سی ڈی اے بورڈ کا 16واں اجلاس سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبران سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ سی ڈی اے بورڈ کے 16ویں اجلاس میں متعدد ایجنڈا آئیٹمز زیر بحث لائے گئے۔
تفصیلات کے مطابق، سی ڈی اے بورڈ کے 16ویں اجلاس میں اسلام آباد کے شہریوں کو ریلیف و سہولت فراہم کرنے کیلئے قبر کھدائی اور میت بس کے چارجز معاف کرنے کے فیصلہ کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو دکھ کی گھڑی میں ہر ممکن ریلیف و سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین سی ڈی اے نے اسلام آباد کے قبرستانوں کو مزید میت بسیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔سی ڈی اے بورڈ کے 16ویں اجلاس میں کیپیٹل ہسپتال کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سی ڈی اے ہسپتال کے ذرائع آمدن میں اضافہ کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا بالخصوص انسٹیٹشونل بیسڈ پرائیویٹ پریکٹس (آئی بی پی پی)کے تحت کیپیٹل ہسپتال میں پرائیویٹ مریضوں کی موجودہ فیسوں کی شرح میں نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہسپتال کے زرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کو ہسپتال کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے کیپیٹل ہسپتال کو ڈیجیٹلازئڈ اور کیش لیس نظام کیلئے نئے اور جدید کمپیوٹرز اور آلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں سی ڈی اے انٹرنشپ پالیسی سال 2025 کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل گریجویٹس کی سی ڈی اے کیلئے انٹرنشپ پر خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ انٹرنشپ پالیسی کے تحت پاکستان کی بہترین سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے گریجویٹس کو شفاف اور میرٹ کے مطابق رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سی ڈی اے کی تمام فارمیشنز میں نہ صرف افرادی قوت پوری ہوگی بلکہ جدید مہارتوں سے لیس افرادی قوت بھی میسر ہوگی۔ اجلاس میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل اے این ایف کے آفس کے قیام کیلئے جگہ کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح اجلاس میں اسلام آباد میں پولیس اسٹیشن کی تعمیر کیلئے زمین الاٹمنٹ کی درخواست کو قواعد و ضوابط کے مطابق منظوری کا فیصلہ کیا گیا۔سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں سیکٹر F-10، اسلام آباد کی سروس روڈ (ایسٹ)کا نام قومی کھلاڑی “ارشد ندیم روڈ” رکھنے کے حوالے سے تجویز فیڈرل گورنمنٹ کو منظوری کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں اسلام آباد میونسپل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی لینڈ فل سائٹ کے استعمال کیلئے راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (آر ڈبلیو ایم سی)کے ساتھ کرایہ کا معاہدہ قواعد و ضوابط کے مطابق طے کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں اسلام آباد ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن (آئی-9، آئی-11 اور کسی دیگر سائٹس)سے سالڈ ویسٹ کی نقل و حمل ڈمپنگ سائٹ، چک بیلی خان روڈ، راولپنڈی تک راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (آر ڈبلیو ایم سی)کی خدمات کی مدت میں توسیع کرنے کی منظوری دی گئی۔سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں ادارے کے گریڈ 15 اور 16 میں تعینات سٹیٹسکل اسسٹنٹ ملازمین کے اپ گریڈیشن کے طریقے کار کو فنانس ڈویژن کے رولز کے مطابق اپنانے کی منظوری دی گئی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے تمام فیصلہ جات پر عملدرآمد کے حوالے سے شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تعمیر و ترقی، شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور بیوٹفکیشن سی ڈی اے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلہ میں تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا ء کپ: سپر فور مرحلے میں پاکستان کا بھارت سے مقابلہ کب اور کہاں ہوگا؟ ایشیا ء کپ: سپر فور مرحلے میں پاکستان کا بھارت سے مقابلہ کب اور کہاں ہوگا؟ سعودی، پاکستانی سٹریٹجک معاہدے کی اہمیت، عرب صحافت کی نظر میں پاک-سعودیہ دفاعی معاہدہ: سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، 100 انڈیکس تاریخی سطح پر پہنچ گیا نومئی مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 18 پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار سعودیہ سے معاہدے کی تیاری و تکمیل میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے دریائے چناب میں سیلاب سے بندبوسن کے حالات سنگین، کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اجلاس میں اسلام آباد کا فیصلہ کیا گیا چیئرمین سی ڈی اے کی منظوری دی گئی سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں سی کے حوالے سے کے مطابق کرنے کی کرنے کے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :