جاپانی ’ڈریگن فلائی‘ پرنس باقاعدہ بالغ ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
جاپانی شہنشاہ نرُوہیتو کے بھتیجے اور ولی عہد فُمہیتو کے صاحبزادے شہزادہ ہیساہیتو 19 برس کی عمر میں بلوغت کو پہنچ گئے ہیں، یہ جاپانی شاہی خاندان میں گزشتہ 40 برسوں میں کسی مرد رکن کے سن بلوغت تک پہنچنے کا پہلا موقع ہے۔
ہفتے کے روز شہزادے نے ایک خصوصی تقریب میں عمرِ بلوغت کا تاج حاصل کیا، جو ریشمی سیاہ کپڑے اور روغنی کاریگری سے تیار کیا گیا تھا اور جسے شاہی خاندان میں جوانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
شہزادہ ہیساہیتو نے تقریب کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عہدِ شباب کی اس تقریب میں تاج عطا کرنے پر آپ سب کا بہت شکریہ۔ ’میں بالغ رکن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ رہوں گا اور اپنے فرائض ادا کروں گا۔‘
ولی عہد کی صف میں مقامشہزادہ ہیساہیتو کی پیدائش 6 ستمبر 2006 کو ٹوکیو کے علاقے مِناتو میں ہوئی، وہ ولی عہد فُمہیتو اور ولی عہدہ شہزادی کیکو کے سب سے چھوٹے بچے اور اکلوتے بیٹے ہیں، شہنشاہ نرُوہیتو کے بھتیجے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے والد کے بعد تختِ کرائیزینتھم کے دوسرے امیدوار ہیں۔
موجودہ شاہی خاندان کے 16 بالغ ارکان میں ہیساہیتو سب سے کم عمر ہیں، ان کے بعد تخت کے امیدوار صرف ان کے والد اور پرنس ہیتاچی ہیں، پرنس ہیتاچی سابق شہنشاہ اکِیہیتو کے بھائی ہیں اور اس وقت 89 برس کے ہو چکے ہیں۔
تعلیم اور مشاغلشہزادہ ہیساہیتو نے 2010 میں اوچانومیزو یونیورسٹی کنڈرگارٹن میں تعلیم کا آغاز کیا اور پھر 2013 میں یونیورسٹی ایلیمنٹری اسکول میں داخل ہوئے، وہ شاہی خاندان کے پہلے فرد ہیں جنہوں نے روایتی گاکُشوئین اسکول کے بجائے کسی اور ادارے میں تعلیم حاصل کی۔
فی الحال وہ یونیورسٹی آف تسُکوبا کے اسکول آف لائف اینڈ انوائرمنٹل سائنسز میں زیرِ تعلیم ہیں، مارچ 2021 میں انہوں نے بچوں کے ایک غیر افسانوی تحریری مقابلے میں دوسرا انعام حاصل کیا، تاہم فروری 2022 میں ایک تحریر پر ان پر سرقے کا الزام بھی عائد ہوا۔
شہزادہ ہیساہیتو کو ڈریگن فلائی پرنس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہیں ان حشرات سے خاص لگاؤ ہے، انہوں نے ٹوکیو کے اپنے اکاساکا محل میں ڈریگن فلائز پر ایک سائنسی سروے پر تحقیقی مقالہ بھی شریک تحریر کیا، اس کے علاوہ وہ بیڈمنٹن کھیلنے کے شوقین ہیں۔
دلچسپ حقیقتاگرچہ شہنشاہ نرُوہیتو کی ایک بیٹی، شہزادی آئیکو موجود ہیں، مگر جاپان کے 19ویں صدی کے مردانہ جانشینی کے قوانین کے تحت خواتین تخت پر نہیں بیٹھ سکتیں، اسی لیے شاہی جانشینی کی امیدیں شہزادہ ہیساہیتو سے وابستہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاہی خاندان ولی عہد
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔