—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ جلالپور پیر والا کو بچانے کے لیے موٹر وے توڑنا آسان فیصلہ نہیں، شہریوں کی جان و مال زیادہ اہم ہے، ہر قیمت پر جلال پور پیر والا شہر کو بچانا ترجیح ہے۔

ملتان میں عبدالعلیم خان نے جلالپور پیر والا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے موٹروے ایم 5 کو پہنچنے والے نقصان اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 3 ہفتوں سے جلالپور پیر والا شہر کو بچانے کی کوشش جاری ہے، موٹروے کے ساتھ دونوں طرف پانی 20 کلو میٹر تک ہے۔

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ پنجاب حکومت فیصلہ کرے، این ایچ اے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اس موقع پر عبدالعلیم خان نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور صوبائی وزراء کے ہمراہ مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔

اجلاس میں سیکریٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور کمشنر نے بریفنگ دی۔

اعلامیے کے مطابق موٹروے پر مزید شگاف کے لیے نیسپاک، آبپاشی، واٹر سروسز اور متعلقہ ادارے رابطے میں ہیں،این ایچ اے و آبپاشی کے ماہرین کی ٹیکنیکل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، صورتِ حال کی مسلسل مانیٹرنگ ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان پیر والا

پڑھیں:

20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی

جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔

جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔

نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔

مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی

اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی