WE News:
2026-06-02@23:27:06 GMT

پنجاب میں طوطوں کی رجسٹریشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

محکمۂ جنگلی حیات پنجاب نے صوبے بھر میں طوطوں کی لازمی رجسٹریشن کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد نایاب اقسام کے تحفظ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام ہے

ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن عدنان وڑائچ کے مطابق ہر طوطے کی رجسٹریشن کے لیے مالکان کو ایک ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔

Punjab Wildlife Department Makes Parrot Registration Mandatory to Protect Endangered Species

FIND MORE: https://t.

co/DQKgdf12iG#LatestUpdates #Punjab #Wildlife #Department #Parrot #Registration #Mandatory #Protect #Endangered #Species #Lahore #TTI pic.twitter.com/JO6P6fVmL4

— The Truth International (@ttimagazine) September 17, 2025

رجسٹریشن کے بعد پرندے کو ایک انگوٹھی نما ٹیک لگائی جائے گی، جس پر منفرد شناختی نمبر درج ہوگا۔

یہ پالیسی صرف دکانداروں اور کمرشل بریڈرز ہی نہیں بلکہ گھروں میں پالے گئے طوطوں پر بھی لاگو ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی رجسٹرڈ طوطے کی افزائش سے بچے نکلیں تو ان کی علیحدہ رجسٹریشن بھی لازمی ہوگی۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ جنگلی پرندوں اور جانوروں کی کھلی فروخت پر پابندی برقرار رہے گی، جس میں لاہور کی مشہور ٹولنٹن مارکیٹ بھی شامل ہے۔ صرف لائسنس یافتہ بریڈرز اور رجسٹرڈ ڈیلرز کو اجازت دی جائے گی۔

ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کئی مقامی اقسام کے طوطے تیزی سے کمی کا شکار ہیں، اور یہ اقدام ان کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

لاہور:   پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟