ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری کو ناسا کا عبوری سربراہ مقرر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرانسپورٹیشن کے سیکریٹری سیان ڈفی کو امریکا کی خلائی ایجنسی ناسا کا عبوری منتظم مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ڈفی سیان کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ہمارے مواصلات کے امور کو زبردست انداز میں سنبھال رہے ہیں، جن میں جدید ترین ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم کی تیاری اور سڑکوں اور پلوں کی بحالی شامل ہے۔ وہ ناسا جیسے اہم ادارے کی قیادت کے لیے بہترین انتخاب ہوں گے، چاہے یہ عہدہ وقتی ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ نے ناسا کے لیے ایلون مسک کے اتحادی جیرڈ آئزک مین کی نامزدگی واپس لے لی
سیان ڈفی نے اس اعلان کے فوراً بعد پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس مشن کو قبول کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ اب خلا کو سنبھالنے کا وقت ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جانٹ پیٹرو، جو فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر اور ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت سے ناسا کی عبوری سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں، ان کی حیثیت اب کیا ہوگی۔ ناسا کی ویب سائٹ پر تاحال انہیں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مئی کے آخر میں صدر ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے ارب پتی جیرڈ آئزک مین کی ناسا کی سربراہی کے لیے کی گئی نامزدگی واپس لے لی تھی اور اس کی وجہ ان کے ایلون مسک سے قریبی رابط بتایا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا خلائی ادارہ ڈونلڈ ٹرمپ ناسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا خلائی ادارہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔