اتنی اچھی انگریزی کہاں سے سیکھی؟ ٹرمپ کا لائبیریا کے صدر سے دلچسپ مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لائبیریا کے صدر جوزف بوکائی کی انگریزی بولنے کی صلاحیت کو سراہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز افریقی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اس دوران امریکی صدر لائبیریا کے صدر جوزف بوکائی کی انگریزی بولنے کی مہارت پر حیران کن ردعمل کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لائبیریا کے صدر کی روانی سے بولی گئی انگریزی پر حیران رہ گئے جس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔
ہوا کچھ یوں کے اس ملاقات میں کچھ رہنما مختلف زبانوں میں اظہار خیال کر رہے تھے تاہم لائبیریا کے صدر نے نے روانی سے انگریزی میں بات کی جس پر صدر ٹرمپ بھی حیران رہ گئے۔
صدر ٹرمپ نے لائبیریا کے صدر سے پوچھا: ” آپ اتنی اچھی انگریزی بولتے ہیں کہاں سے سیکھی؟” اس پر لائبیریا کے صدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “میں نے انگریزی لائبیریا سے ہی سیکھی ہے۔”
اس کے جواب میں امریکی صدر نے صدر بوکائی کی زبان دانی کو دلچسپ اور بہت خوبصورت انگزیری قرار دیا اور کہا کہ “یہ خوبصورت انگریزی ہے یہاں میز پر بیٹھے کچھ لوگ اتنی اچھی انگریزی نہیں بول سکتے۔”
تاہم لائبیریا کے صدر جوزف بوکائی نے امریکی صدر ٹرمپ کو یہ نہیں بتایا کہ انگریزی لائبیریا کی سرکاری زبان ہے۔
واضح رہے کہ لائبیریا ایک مغربی افریقی ملک ہے جہاں انگریزی سرکاری زبان ہے اور وہاں کے بیشتر شہری روانی سے انگریزی بولتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لائبیریا کے صدر امریکی صدر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔