پیرس میں ملاقات کے بعد دبئی کی شہزادی شیخہ مہرہ اور مشہور امریکی ریپر فرنچ مونٹانا کے قریبی تعلقات کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی، شیخہ مہرہ اور مشہور امریکی ریپر فرنچ مونٹانا کے درمیان قریبی تعلقات کی خبریں میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ دونوں شخصیات کو حال ہی میں پیرس فیشن ویک میں ایک ساتھ دیکھا گیا، جہاں وہ مختلف نجی تقریبات اور فیشن شوز میں شریک ہوئے۔

شیخہ مہرہ نے انسٹاگرام اسٹوری میں ایفل ٹاور کے سامنے ایک "لو لاک" تھامے ہوئے تصویر شیئر کی ہے جو اکثر رومانوی جذبات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by Nukta Dubai (@nuktadubai)

یاد رہے کہ دبئی کی شہزادی شیخہ مہرہ کاروباری دنیا میں بھی اپنا نام بنا رہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مہرا M1 کے نام سے پرفیومز کی ایک بزنس چین متعارف کروائی، جس کا پہلا پرفیوم "ڈائیورس" ہے، جس کی قیمت 272 ڈالر رکھی گئی ہے۔

یہ پرفیوم ان کی اپنے شوہر شیخ مانا بن محمد المکتوم سے 2024 میں طلاق کے بعد لانچ کیا گیا تھا۔ ان دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے جو مئی 2024 میں پیدا ہوئی تاہم اس کے بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔

دوسری جانب امریکی ریپر فرنچ مونٹانا جن کا اصل نام کریم خربوش ہے، اپنے ہِٹ گانوں اور افریقی و مشرق وسطیٰ میں فلاحی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فرنچ مونٹانا امریکی ریپر

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس