وزیراعظم سے ایرانی صدر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
آذربائیجان میں ای سی اواجلاس کےموقع پر وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تمام شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلوں پر پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے صدر پزشکیان کی قیادت اور ایران کے جنگ بندی کے فیصلے کو سراہا
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائن پر اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تمام شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا اور گزشتہ ملاقاتوں میں طے پانے والے فیصلوں پر ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران کے جنگ بندی کے فیصلے کی تعریف کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط سفارتی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ ملاقات کو برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایرانی صدر
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔