اسرائیل پر تنقید کے جرم میں برطانوی صحافی سامی حامدی امریکا میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
برطانوی صحافی اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر تبصرہ کرنے والے معروف تجزیہ کار سامی حامدی کو امریکی امیگریشن حکام (ICE) نے گرفتار کر لیا ہے۔ حامدی کو اسرائیل پر سخت تنقید کرنے کی وجہ سے امریکی حکام کی ناراضی کا سامنا تھا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی ترجمان ٹریشا مکلافلن نے بتایا کہ سمی حامدی کو امریکی دورے کے دوران حراست میں لیا گیا ہے اور ان کا ویزہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حامدی اس وقت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی تحویل میں ہیں اور انہیں جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ اور DHS کا کہنا ہے کہ سامی حامدی مبینہ طور پر دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان غیر ملکیوں کو ملک میں رکھے جو دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں یا امریکیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی عدالت نے فلسطین کے حامی اساتذہ و طلبہ کی ملک بدری کو خلاف آئین قرار دیدیا
تاہم، امریکی حکام نے بی بی سی کی جانب سے حامدی کے خلاف شواہد فراہم کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
سی اے آئی آر (CAIR) کا ردِعملامریکی مسلم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے اس گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق، سامی حامدی کو اتوار کے روز سان فرانسسکو ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ CAIR فلوریڈا کی سالانہ تقریب سے خطاب کرنے جا رہے تھے۔
CAIR کے بیان میں کہا گیا ہماری قوم کو اسرائیلی حکومت کے ناقدین کو گرفتار کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ یہ اسرائیل فرسٹ پالیسی ہے، امریکا فرسٹ نہیں۔ تنظیم کے وکلا حامدی کی فوری رہائی کے لیے قانونی اقدامات کر رہے ہیں۔
پِیچھے کی کہانیسامی حامدی ایک برطانوی صحافی ہیں جو اکثر برطانوی ٹی وی چینلز پر مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین سے متعلق تبصرے کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتے آئے ہیں۔
ان کی گرفتاری دائیں بازو کی سیاسی کارکن اور سابق ٹرمپ اتحادی لورا لومر کی جانب سے کیے گئے الزامات کے بعد عمل میں آئی۔
لومر نے سماجی پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر دعویٰ کیا تھا کہ سامی حامدی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں CAIR نے لومر پر اسلام مخالف سازشیں پھیلانے کا الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھیے امریکی یہودیوں کی اکثریت غزہ جنگ کی خلاف ہوگئی، اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا
یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی ہو۔
رواں سال مارچ میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک فلسطین نواز طالبعلم محمود خلیل کو بھی گرفتار کر کے ملک بدری کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس مقدمے کی سماعت اب بھی جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سامی حامدی کا معاملہ اظہارِ رائے کی آزادی اور امریکی خارجہ پالیسی کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک اہم آزمائش بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی صحافی سامی حامدی غزہ نسل کشی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی صحافی برطانوی صحافی حامدی کو کرتے ہیں
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔