غزہ کی نسل کشی میں بھارت کا ٹاٹا گروپ بھی شریک نکلا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
امریکی تنظیم سلام نے انکشاف کیا ہے کہ انڈیا کا سب سے بڑا کاروباری گروپ ٹاٹا غزہ میں اسرائیلی مظالم میں شریک ہے، جو فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے لیے ہتھیار، مشینری اور ڈیجیٹل نظامِ فراہم کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کے عوام کی بدترین نسل کشی میں انڈیا کا بزنس ٹائیکون ٹاٹا گروپ بھی شریک نکلا۔ امریکی تنظیم سلام نے انکشاف کیا ہے کہ انڈیا کا سب سے بڑا کاروباری گروپ ٹاٹا غزہ میں اسرائیلی مظالم میں شریک ہے، جو فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے لیے ہتھیار، مشینری اور ڈیجیٹل نظامِ فراہم کر رہا ہے۔ سلام نیو یارک میں قائم ایک جنوبی ایشیائی سیاسی تنظیم ہے جس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹاٹا گروپ کی مختلف ذیلی کمپنیاں، جیسے ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز لمیٹڈ (TASL)، ٹاٹا موٹرز اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS)، اسرائیل کو فوجی سازوسامان، بکتر بند گاڑیاں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کر رہی ہیں، جو فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹاٹا کے منصوبے محض کاروباری نہیں بلکہ اسرائیلی قبضے اور جبر کے نظام کا فعال حصہ ہیں، جو غزہ میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق TASL نے اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہیں اور وہ میزائل سسٹمز، جنگی طیاروں کے پرزے، اور نگرانی کے آلات کی مشترکہ تیاری میں مصروف ہے، اس کے علاوہ کمپنی F-21 لڑاکا طیاروں اور مڈ رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹمز (MRSAM) جیسے منصوبوں میں بھی شراکت دار ہے، جنہیں بعد میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹاٹا موٹرز اسرائیلی فوج کو زمینی کارروائیوں کے لیے فوجی گاڑیوں کے ڈھانچے فراہم کرتی ہے، جب کہ TCS اسرائیل کے حکومتی اور بینکاری نظام کو ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کر رہی ہے، جو مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کرنے میں مددگار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹاٹا گروپ کے یہ منصوبے محض تجارتی نہیں بلکہ اسرائیل کے قبضے، نگرانی اور جبر کے ڈھانچے کا فعال حصہ ہیں، جس سے فلسطینی عوام پر ریاستی تشدد اور مظالم کو تقویت ملتی ہے۔ سلام کی رپورٹ میں انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تعلق محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی اور سیاسی اتحاد ہے جو گزشتہ 50 برسوں میں منظم طور پر پروان چڑھا ہے۔رپورٹ کے مطابق انڈین سرمایہ دار طبقہ نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے، جبکہ انڈیا خطے میں غلبے کا خواہاں ہے اور یہی مفادات صیہونیت اور ہندو قوم پرستی (ہندوتوا) کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق یہ تعلق صرف کاروباری سطح تک محدود نہیں بلکہ ایک کارپوریٹ، سیاسی، اور عسکری اتحاد کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام رپورٹ میں نہیں بلکہ فراہم کر کے مطابق
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔