پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایک خطرناک فراڈ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں جعلساز مفت سم کارڈ یا جعلی مالی امدادی اسکیموں کا جھانسہ دے کر شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا چرا رہے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق یہ گروہ خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن سے مفت سم یا امدادی پیکیج کے بہانے حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس ڈیٹا سے جعلی سمیں جاری کر کے مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور دیگر جرائم کیے جا رہے ہیں۔
عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان
اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی غیر مصدقہ شخص یا ادارے کے ساتھ اپنی بائیومیٹرک معلومات یا شناختی ڈیٹا ہرگز شیئر نہ کریں، کیونکہ اپنے نام پر جاری سم کسی دوسرے کو دینا قابلِ سزا جرم ہے۔
پی ٹی اے نے میٹا اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ایک آگاہی مہم بھی شروع کی ہے تاکہ عوام کو آن لائن فراڈ، جعلی اشتہارات اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافہ ہی آن لائن جرائم سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ میٹا پاکستان کی ہیڈ آف پبلک پالیسی دانیا مختار کے مطابق جعلی اکاؤنٹس اور فراڈرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم عوامی آگاہی ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
آٹے کی سرکاری اور ریٹیل قیمتوں میں بڑا فرق، عوام پریشان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی اے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔