چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر پرامن اور ترقی یافتہ خطہ تشکیل دینے کے لئے پرعزم ہیں، وزیر مملکت حذیفہ رحمان
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت حذیفہ رحمان کاکہنا ہے چین کے شہر یانگ ژو میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزارتی اجلاس میں پاکستان نے بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ دنیا ایک بار پھر دیکھ رہی کہ پاکستان نہ صرف ایک جغرافیائی حقیقت ہے بلکہ ایک تہذیبی ورثے اور فکری قیادت کا نام بھی ہے۔ انہوں نے کہا ہم چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایک پر امن و ثقافتی طور پر جڑا ہوا اور ترقی یافتہ خطہ تشکیل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔ پاکستان کا وژن امن، اشتراک اور ترقی کے ذریعے دنیا کے ساتھ جڑنا ہے۔
یوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کو بڑادھمکا،15جولائی سے نئی پالیسی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔