Jasarat News:
2026-06-03@04:48:00 GMT

صارفیت، آدھی روٹی اور دل ونگاہ کی مسلمانی

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہم اپنے فلیٹ کی گیلری سے دیکھ رہے تھے۔ نیچے فلیٹ میں نئے لوگ شفٹ ہورہے تھے۔ لوگ کیا صرف دو میاں بیوی تھے۔ لیکن ان کا سامان! دو بڑے ٹرکوں پر لوڈ تھا جسے چار مزدور اٹھا اٹھاکر کمروں میں منتقل کررہے تھے۔ لگتا تھا دونوں میاں بیوی کی زندگی کا مقصد اور محور بس چیزیں اور اشیاء جمع کرنا تھا۔ آج کل زندگی کا یہی ڈھب ہے۔ بیش تر لوگوں کی زندگیاں محبت، تجربے اور تخلیق سے جینے کے بجائے محض مادی اشیاء کے زیادہ سے زیادہ حصول کے گرد گھوم رہی ہیں۔ محبت، جو کبھی ہر چیز کا پھیلائو اور وسعت تھی، سب کچھ جس میں سما جاتا تھا اب مادی اشیاء اس پر غالب اور برتر ہیں۔

اٹھارویں صدی کے وسط (1760ء) سے انیسویں صدی کے وسط (1840ء) تک صنعتی انقلاب کی پہلی لہر، جب برطانیہ میں بھاپ کے انجن، پاورلوم، اسپننگ جینی اور دیگر مشینوں کی ایجاد سے زرعی معیشت سے دنیا مشینی اور شہری معیشت کی طرف منتقل ہونا شروع ہوئی، صنعتوں اور فیکٹریوں کا جال بچھنے لگا، ریلوے، اسٹیل اور دیگر شعبوں میں تیزی سے ترقی ہونے لگی تب لوگوں کو بتایا گیا کہ اب مشینیں انسانوں کا کام آسان بنائیں گی۔ آمدنی، آسائش، آرام، فرصت اور تفریح زیادہ ہوگی۔ علم، تعلیم، انصاف اور شہری آزادی سب کو ملے گی۔ ہر شخص محنت کرکے امیر بن سکے گا۔ سائنس انسانی نجات دہندہ کا کردار ادا کرے گی۔ بیماریاں ختم ہو جائیں گی، فاقہ کشی ماضی کا قصہ بن جائے گی اور زندگی بہتر سے بہتر ہوجائے گی۔

سرمایہ دارانہ نظام کا دکھایا ہوا یہ خواب، خواب ہی رہا۔ مشینوں نے انسان کو فرصت اور تصورِ جاناں کے لمحات تو کیا دینے تھے اس کے دن رات کام میں جکڑدیے حتیٰ کہ وقت کی کمی عام شکایت بن گئی۔ لوگوں کے پاس محبت کرنے کا وقت بھی نہیں رہا۔ شہروں میں صنعتی آلودگی بڑھ گئی۔ رشتے یوں آلودہ ہوئے کہ خاندانی نظام بکھر گیا۔ انسانوں کے درمیان روحانی وجذباتی فاصلے وسیع سے وسیع تر ہوگئے۔ انسان اپنے آپ سے اجنبی ہو گیا۔ ایک دوسرے سے اجنبی ہو گیا۔ گزشتہ مہینے مشہور ٹی وی آرٹسٹ عائشہ خان جن کا کام تقریباً پانچ دہائیوں پر پھیلا ہوا تھا 19 جون 2025 کو گلشن اقبال کراچی میں ان کے فلیٹ میں ان کی لاش کا انکشاف اس حال میں ہوا کہ وہ تنہائی کی حالت میں ایک ہفتے پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ایک ہفتے وہ منظر سے غائب رہیں پاس پڑوس کسی کو تشویش ہوئی اور نہ ان کی خبر لینے کی خواہش کسی دل میں بیدار ہوئی۔ بدبو آنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ ان کا ایک بیٹا اسلام آباد میں تھا جب کہ دیگر بچے بیرون ملک رہائش پذیر تھے۔ اس ایک ہفتے اور نہ جانے کب سے انہوں نے اپنی 76 سالہ بوڑھی ماں کی کوئی خیر خبر نہیں لی۔ پولیس سرجن کے مطابق لاش پہلے سے گندے پن کی وجہ سے سڑچکی تھی۔

سرمایہ دارانہ نظام کے خواب کا آج حاصل یہ ہے کہ سرمایہ چند لوگوں کے ہاتھ میں مرکوز ہے اور محنت کش طبقات کا حال برا ہے۔ پہلے ایک فرد کماتا تھا اور پورا گھر کھاتا تھا۔ آج سب مل کر کما رہے ہیں اور پھر بھی پورا نہیں ہورہا۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو مادی اشیاء کی دوڑ میں دوڑے چلے جارہے ہیں۔ نت نئے ملبوسات، گاڑیوں، فون اور برانڈز میں زندگی کی خوشیاں تلاش کررہے ہیں۔ تعیشات کے حصول کی غلامی کررہے ہیں۔ اپنی زندگی اور محنت کو ان کے حصول میں کھپا رہے ہیں پھر بھی روحانی خلا میں معلق اور ناآسودہ ہیں۔ وہ ایک ایسی مادی دنیا میں ہیں جہاں سب کچھ ہے سوائے دل، روح اور تخیل کے۔ ہر رشتے سے کٹ کر محض صارف (Consumer) بن کر اشیاء کی پرستش کررہے ہیں۔ یہ پرستش وقتی سکون تو پہنچاتی ہے لیکن طلب مزید بڑھا دیتی ہے۔

وہ لوگ جو اس دنیا کے پچھواڑے میں ہیں جن کے پاس کچھ نہیں وہ بھی اشیاء کی اسی غلامی کو کامیابی اور خوشی کا پیمانہ سمجھنے لگے ہیں۔ محبت، سچائی، دیانت اور قربانی جیسے آئیڈیل اب سماج کے اس حصے میں بھی پسپا ہورہے ہیں۔ برانڈز، شہرت اور ظاہری چمک ان کے ضمیروں کو بھی دھند لارہی ہے۔ یہ طبقے بھی بس موقع کی تلاش میں ہیں وہ بھی خیالی نجات کے اسی کاروبار میں شریک ہونے کے لیے مرے جارہے ہیں۔ محنت کش عوام بھی فکری زوال کا شکار ہیں۔ محروم طبقہ بھی اشیاء اور ظاہری چمک دمک کو آئیڈیل اور خوشیوں کا باعث سمجھنے لگا ہے۔ آدھی روٹی کھا کر شکر کرنے والے بھی اب کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔ آدھی روٹی اور دل ونگاہ کی مسلمانی بھی اب زوال پذیر ہے۔ معاشرہ عدل، محبت اور دیانت داری کے اصولوں سے خالی ہو جائے تو دولت بھی بدبختی لے کر آتی ہے۔ اب کوئی بھی ان قربانیوں کی قیمت پر دولت کو بدبختی سمجھ کر اس سے گریزاں ہونے پر تیار نہیں خواہ اس کے لیے عدل محبت اور دیانت داری کو چھوڑنا پڑے۔

اب روح کو پیاسا رکھ کر جسم کو آسودگی دینے والی دنیا کہیں بری نہیں رہی۔ مادی ترقی کی وجہ سے روحانی زوال ہو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ محبت، سچائی، قربانی اور دیانت وغیرہ اب بس وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ان موضوعات پر باتیں، تقریریں اور تحریریں اچھی لگتی ہیں ترقی کی غلامی کو آزادی کا نام دے کر ہم جو زندگی بسرکررہے ہیں اس زندگی میں ان جذبوں کا مقام بس یہیں تک رہ گیا ہے۔ جہاں زندگی میں بہت سی اشیاء سجاوٹ کے طور پر گھر میں رکھ لی جاتی ہیں وہاں ان جذبوںکو بھی زندگی میں کسی مقام پر رکھ لیا گیا ہے دیگر بہت سی چیزوں کی طرح۔ مارکس نے جو بات مذہب کے بارے میں کہی تھی وہ بات اب اشیاء اور صارفیت پر صادق آتی ہے۔ اب اشیا اور صارفیت اس دور کے انسان کی افیون ہیں۔

اب لوگ ایسی مشینیں ہیں جو صرف فائدہ تخلیق کرنا چاہتی ہیں بہر قیمت۔ ایک ایسی مشین کے پرزے جو اخلاقیات سے عاری ترقی اور پیداوار کا ماڈل خلق کرتے ہیں یا پھر ایک ایسی مشین کے پرزے جن کی سوچ اور جن کے جذبات تک پر باہر کی قوتوں کا، میڈیا کا، عالمی بیوروکریسی کا اور حکومتوں کا کنٹرول بڑھ گیا ہے۔ وہ اپنی محنت اپنی فکر اور اپنے رشتوں سے کٹ گئے ہیں۔ جذبات اور اخلاقیات سے بیگانہ ہو گئے ہیں۔ ہمہ وقت کارکردگی دکھانے والی مشینیں، فائدے اور پیداوار کے دبائو میں سانس لیتی ہوئیں جنہیں ایسا محسوس کروایا جا رہا ہے کہ جیسے وہ آزاد ہیں مگر ان کی سوچ، جذبات اور نظریات پہلے سے طے شدہ دائروں میں قید ہیں۔ پہلے سے دائرے بنادیے گئے ہیں جن میں وہ گردش کررہے ہیں اور اس گردش کو آزادی سمجھ رہے ہیں۔ ہم جو دیکھ اور سمجھ رہے ہیں اس کے سوتے ہمارے اندر سے نہیں پھوٹتے بلکہ ٹی وی، میڈیا، اشتہارات اور بیرونی طاقتیںطے کرتی ہیں کہ ہمیں کیا سوچنا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے صنعتی ترقی کی صورت لا محدود ترقی، لا محدود آزادی اور لا محدود خوشی کا جو خواب دکھایا تھا وہ ایک بڑے دھوکے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا۔ معاشی ترقی بس چند امیر ملکوں تک ہی رہی وہاں بھی مخصوص طبقوں تک۔ اس نظام سے دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یہ اس نظام کا ثمر ہے کہ دنیا کی آبادی کا ایک فی صد طبقہ دنیا کی نصف سے زیادہ دولت پر قابض ہے۔ امریکا، برطانیہ، جا پان اور جرمنی میں بھی دولت کا بڑا حصہ چند کمپنیوں اور خاندانوں کے پاس ہے۔

دنیا بھر میں متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے اور نچلا طبقہ جان توڑ محنت کے باوجود غربت میں دھنس رہا ہے۔ اس نظام نے جس صارفیت اور کنزیومر ازم کو جنم دیا اس نے خوشی کو زیادہ سے زیادہ اشیاء اور چیزوں کے جمع کرنے، برانڈز اور نمودو نمائش سے جوڑ دیا ہے لیکن انسان کو اور اخلاقیات کو فراموش کردیا ہے۔ اب دل ونگاہ کی مسلمانی برقرار اور زندہ رکھنے کے لیے آدھی روٹی پر گزر بسر کرنے والے کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا دھی روٹی جارہے ہیں کررہے ہیں رہے ہیں

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی