Islam Times:
2026-07-24@09:03:47 GMT

یمن کو شکست دینا آسان نہیں

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

یمن کو شکست دینا آسان نہیں

اسلام ٹائمز: یمن میں زمینی افواج بھیجنے کا امکان امریکہ یا اسرائیل میں سے کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے، کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ بہت مشکل ہے۔ مصریوں نے 1960ء کی دہائی میں یمن میں مداخلت کی، لیکن ناکامی انکا مقدر بنی۔ آج حالات مختلف ہیں، لیکن جغرافیہ وہی ہے۔ لہذا یمن کا جغرافیائی حجم ایک اور وجہ ہے کہ زمینی افواج کیساتھ بھی انکا مقابلہ کرنا نہایت مشکل اور مہنگا ہے اور امریکہ اور اسرائیل شاید یمن میں زمینی افواج بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنے لیے ایک اور دلدل پیدا نہیں کرنا چاہتے، ایسی دلدل جس میں داخل ہونا تو آسان ہے لیکن نکلنا بہت مشکل ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

"اسرائیل نہیں جانتا کہ یمنی مسئلے کو کیسے حل کرے۔" یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ عبرانی زبان کے اخبار Haaretz کی سرخی ہے، جس میں یمنی افواج کا مقابلہ کرنے میں تل ابیب کی بے بسی اور تعطل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران صنعا سے یمنی فورسز نے مقبوضہ فلسطین کے اہداف پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے صیہونیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور یمن نے یہ ثابت کیا ہے کہ یمن  اکیلا ہی اسرائیلی فوج کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی ذرائع تل ابیب کی اس الجھن کی بات کرتے ہیں کہ یمنی چیلنج سے کیسے نمٹا جائے۔

امریکا کا اعلان شکست
تقریباً 2 ماہ قبل 6 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ یمن پر اپنے حملے بند کر دے گا۔ امریکہ نے 15 مارچ سے یمن پر اپنے فضائی حملے شروع کئے تھے اور اچانک یمن کے مشرقی پڑوسی عمان نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں امریکہ اور انصار اللہ کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے ثالثی کی ہے۔ لیکن یمن پر سات ہفتوں کی امریکی جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یمنیوں نے ہتھیار ڈال دیئے بلکہ امریکہ اور برطانیہ دونوں ممالک کے بڑے پیمانے پر فضائی حملے 53 دن تک جاری رہے، لیکن وہ غزہ کے دفاع میں جاری یمنی حملوں کو نہ روک سکے اور آخرکار ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بڑی قیمت پر جنگ بندی کا اعلان کرنا  پڑا۔ امریکہ نے یمن میں اپنے تین لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا۔ یمن نے امریکہ سے جنگ بندی کے موقع پر ایک بار پھر کہا کہ جب تک غزہ پر حملے بند نہیں ہوتے، اسرائیل پر بھی حملے بند نہیں ہوں گے۔

تقریباً دو ماہ قبل یمنی فورسز نے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی ایئر ڈیفنس نے میزائل کا پتہ لگا لیا، لیکن اسے روکا نہ جا سکا اور اسرائیل کے بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گرا، جس سے ایک گڑھا بن گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ ممکنہ وجہ میزائل پر لانچ کیے گئے انٹرسیپٹر سسٹم میں تکنیکی خرابی تھی۔ یہ حملہ صیہونیوں پر یمنی افواج کا پہلا یا آخری حملہ نہیں تھا۔ یمنی فوج گذشتہ بیس مہینوں میں درجنوں بار اسرائیل پر حملے کرچکی ہے، جبکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ یمنی فوج نے غزہ جنگ کے بعد اسرائیل پر اپنے حملے شروع کئے تھے۔

یمن نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں پر پابندی لگا دی۔ آج تک، اسرائیل نے یمن پر کم از کم آٹھ بڑے فضائی حملے کیے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حملہ بن گوریون ہوائی اڈے کے قریب یمنی میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ یمنیوں کے خلاف اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کی فضائی طاقت کے استعمال کے باوجود اس گروہ کو جنگ میں شکست دینا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی یمنی 2015ء اور 2022ء کے درمیان سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے خلاف مزاحمت کرنے میں کامیاب رہے تھے اور یہ سعودی عرب ہی تھا، جس نے بالآخر یمن کے ساتھ جنگ ​​بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یمن کو شکست دینا اتنا مشکل کیوں ہے؟
ریاض نے 2015ء میں یمن میں انصاراللہ کی اس وقت مخالفت کی، جب انصاراللہ فورسز نے صنعا میں حکومت قائم کی۔ سعودیوں نے جدید امریکی ساختہ جنگی طیارے اور گولہ بارود استعمال کیا۔ تاہم صنعاء میں فوج اور حکومت نہ صرف سعودی عرب اور ریاض کے دوسرے اتحادیوں کی بمباری کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں بلکہ بمباری کے دوران اپنی عسکری صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر یمن کے خلاف سعودی جنگ کے دوران یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملہ آوروں کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمنی افواج کو روکنے کی کوششیں اب تک کئی وجوہات کی بنا پر ناکام رہی ہیں۔ ان کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

یمنیوں کی میزائل صلاحیت:
یمنی افواج اور اس ملک کی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ یمنی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور تعیناتی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برسوں کے دوران، یمنیوں نے میزائل بنانے کے لیے کافی مواد کا ذخیرہ کیا ہے یا وہ سمندری راستوں سے ان مواد تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یمن کا وسیع علاقہ
 اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے کہ یمن کے کافی بڑے حجم کے پیش نظر اس ملک کی فوج اپنے میزائل لانچرز کو چھپا کر مختلف مقامات سے میزائل داغ سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمنی فوج ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائل استعمال کرتی ہے۔

یمنی فوج کی ڈرون صلاحیت:
یمنیوں کی ڈرون تک رسائی نے ان کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ آج، یمنیوں کو تقریباً تمام قسم کے ڈرونز تک رسائی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر شاہد 136 ڈرون پہلی بار 2021ء میں یمن میں دیکھا گیا تھا اور دیگر جنگی ڈرون بھی یمنی فورسز کے قبضے میں ہیں۔

اسرائیل کی فضائی دفاع میں ناکامی:
درحقیقت صنعا میں یمنی افواج کے ساتھ اسرائیل کا ناکام تصادم امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑے چیلنج کی علامت ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ اب تک یمنی افواج کو دبانے میں ناکام رہی ہے، حالانکہ اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ وہ یمن سے داغے گئے پچانوے فیصد سے زیادہ میزائلوں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ یمنی میزائل اسرائیل میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، اسرائیل کا فضائی دفاع یا یمن پر بمباری یمن کے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں  ابھی تک ناکام رہی ہے۔

زمینی افواج بھیجنے میں دشواری:
دوسری طرف یمن میں زمینی افواج بھیجنے کا امکان امریکہ یا اسرائیل میں سے کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے، کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ بہت مشکل ہے۔ مصریوں نے 1960ء کی دہائی میں یمن میں مداخلت کی، لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی۔ آج حالات مختلف ہیں، لیکن جغرافیہ وہی ہے۔ لہذا یمن کا جغرافیائی حجم ایک اور وجہ ہے کہ زمینی افواج کے ساتھ بھی ان کا مقابلہ کرنا نہایت مشکل اور مہنگا ہے اور امریکہ اور اسرائیل شاید یمن میں زمینی افواج بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنے لیے ایک اور دلدل پیدا نہیں کرنا چاہتے، ایسی دلدل جس میں داخل ہونا تو آسان ہے لیکن نکلنا بہت مشکل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمن میں زمینی افواج اور اسرائیل بہت مشکل ہے امریکہ اور یمنی افواج اسرائیل پر میں کامیاب کا مقابلہ افواج بھی یمنی فوج کے دوران کہ یمنی ایک اور اور اس کیا ہے کے لیے کہ یمن یمن کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم