Islam Times:
2026-07-24@12:57:30 GMT

یمن کو شکست دینا آسان نہیں

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

یمن کو شکست دینا آسان نہیں

اسلام ٹائمز: یمن میں زمینی افواج بھیجنے کا امکان امریکہ یا اسرائیل میں سے کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے، کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ بہت مشکل ہے۔ مصریوں نے 1960ء کی دہائی میں یمن میں مداخلت کی، لیکن ناکامی انکا مقدر بنی۔ آج حالات مختلف ہیں، لیکن جغرافیہ وہی ہے۔ لہذا یمن کا جغرافیائی حجم ایک اور وجہ ہے کہ زمینی افواج کیساتھ بھی انکا مقابلہ کرنا نہایت مشکل اور مہنگا ہے اور امریکہ اور اسرائیل شاید یمن میں زمینی افواج بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنے لیے ایک اور دلدل پیدا نہیں کرنا چاہتے، ایسی دلدل جس میں داخل ہونا تو آسان ہے لیکن نکلنا بہت مشکل ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

"اسرائیل نہیں جانتا کہ یمنی مسئلے کو کیسے حل کرے۔" یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ عبرانی زبان کے اخبار Haaretz کی سرخی ہے، جس میں یمنی افواج کا مقابلہ کرنے میں تل ابیب کی بے بسی اور تعطل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران صنعا سے یمنی فورسز نے مقبوضہ فلسطین کے اہداف پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے صیہونیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور یمن نے یہ ثابت کیا ہے کہ یمن  اکیلا ہی اسرائیلی فوج کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی ذرائع تل ابیب کی اس الجھن کی بات کرتے ہیں کہ یمنی چیلنج سے کیسے نمٹا جائے۔

امریکا کا اعلان شکست
تقریباً 2 ماہ قبل 6 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ یمن پر اپنے حملے بند کر دے گا۔ امریکہ نے 15 مارچ سے یمن پر اپنے فضائی حملے شروع کئے تھے اور اچانک یمن کے مشرقی پڑوسی عمان نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں امریکہ اور انصار اللہ کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے ثالثی کی ہے۔ لیکن یمن پر سات ہفتوں کی امریکی جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یمنیوں نے ہتھیار ڈال دیئے بلکہ امریکہ اور برطانیہ دونوں ممالک کے بڑے پیمانے پر فضائی حملے 53 دن تک جاری رہے، لیکن وہ غزہ کے دفاع میں جاری یمنی حملوں کو نہ روک سکے اور آخرکار ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بڑی قیمت پر جنگ بندی کا اعلان کرنا  پڑا۔ امریکہ نے یمن میں اپنے تین لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا۔ یمن نے امریکہ سے جنگ بندی کے موقع پر ایک بار پھر کہا کہ جب تک غزہ پر حملے بند نہیں ہوتے، اسرائیل پر بھی حملے بند نہیں ہوں گے۔

تقریباً دو ماہ قبل یمنی فورسز نے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی ایئر ڈیفنس نے میزائل کا پتہ لگا لیا، لیکن اسے روکا نہ جا سکا اور اسرائیل کے بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گرا، جس سے ایک گڑھا بن گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ ممکنہ وجہ میزائل پر لانچ کیے گئے انٹرسیپٹر سسٹم میں تکنیکی خرابی تھی۔ یہ حملہ صیہونیوں پر یمنی افواج کا پہلا یا آخری حملہ نہیں تھا۔ یمنی فوج گذشتہ بیس مہینوں میں درجنوں بار اسرائیل پر حملے کرچکی ہے، جبکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ یمنی فوج نے غزہ جنگ کے بعد اسرائیل پر اپنے حملے شروع کئے تھے۔

یمن نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں پر پابندی لگا دی۔ آج تک، اسرائیل نے یمن پر کم از کم آٹھ بڑے فضائی حملے کیے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حملہ بن گوریون ہوائی اڈے کے قریب یمنی میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ یمنیوں کے خلاف اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کی فضائی طاقت کے استعمال کے باوجود اس گروہ کو جنگ میں شکست دینا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی یمنی 2015ء اور 2022ء کے درمیان سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے خلاف مزاحمت کرنے میں کامیاب رہے تھے اور یہ سعودی عرب ہی تھا، جس نے بالآخر یمن کے ساتھ جنگ ​​بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یمن کو شکست دینا اتنا مشکل کیوں ہے؟
ریاض نے 2015ء میں یمن میں انصاراللہ کی اس وقت مخالفت کی، جب انصاراللہ فورسز نے صنعا میں حکومت قائم کی۔ سعودیوں نے جدید امریکی ساختہ جنگی طیارے اور گولہ بارود استعمال کیا۔ تاہم صنعاء میں فوج اور حکومت نہ صرف سعودی عرب اور ریاض کے دوسرے اتحادیوں کی بمباری کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں بلکہ بمباری کے دوران اپنی عسکری صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر یمن کے خلاف سعودی جنگ کے دوران یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملہ آوروں کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمنی افواج کو روکنے کی کوششیں اب تک کئی وجوہات کی بنا پر ناکام رہی ہیں۔ ان کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

یمنیوں کی میزائل صلاحیت:
یمنی افواج اور اس ملک کی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ یمنی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور تعیناتی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برسوں کے دوران، یمنیوں نے میزائل بنانے کے لیے کافی مواد کا ذخیرہ کیا ہے یا وہ سمندری راستوں سے ان مواد تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یمن کا وسیع علاقہ
 اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے کہ یمن کے کافی بڑے حجم کے پیش نظر اس ملک کی فوج اپنے میزائل لانچرز کو چھپا کر مختلف مقامات سے میزائل داغ سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمنی فوج ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائل استعمال کرتی ہے۔

یمنی فوج کی ڈرون صلاحیت:
یمنیوں کی ڈرون تک رسائی نے ان کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ آج، یمنیوں کو تقریباً تمام قسم کے ڈرونز تک رسائی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر شاہد 136 ڈرون پہلی بار 2021ء میں یمن میں دیکھا گیا تھا اور دیگر جنگی ڈرون بھی یمنی فورسز کے قبضے میں ہیں۔

اسرائیل کی فضائی دفاع میں ناکامی:
درحقیقت صنعا میں یمنی افواج کے ساتھ اسرائیل کا ناکام تصادم امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑے چیلنج کی علامت ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ اب تک یمنی افواج کو دبانے میں ناکام رہی ہے، حالانکہ اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ وہ یمن سے داغے گئے پچانوے فیصد سے زیادہ میزائلوں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ یمنی میزائل اسرائیل میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، اسرائیل کا فضائی دفاع یا یمن پر بمباری یمن کے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں  ابھی تک ناکام رہی ہے۔

زمینی افواج بھیجنے میں دشواری:
دوسری طرف یمن میں زمینی افواج بھیجنے کا امکان امریکہ یا اسرائیل میں سے کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے، کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ بہت مشکل ہے۔ مصریوں نے 1960ء کی دہائی میں یمن میں مداخلت کی، لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی۔ آج حالات مختلف ہیں، لیکن جغرافیہ وہی ہے۔ لہذا یمن کا جغرافیائی حجم ایک اور وجہ ہے کہ زمینی افواج کے ساتھ بھی ان کا مقابلہ کرنا نہایت مشکل اور مہنگا ہے اور امریکہ اور اسرائیل شاید یمن میں زمینی افواج بھیج کر مشرق وسطیٰ میں اپنے لیے ایک اور دلدل پیدا نہیں کرنا چاہتے، ایسی دلدل جس میں داخل ہونا تو آسان ہے لیکن نکلنا بہت مشکل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمن میں زمینی افواج اور اسرائیل بہت مشکل ہے امریکہ اور یمنی افواج اسرائیل پر میں کامیاب کا مقابلہ افواج بھی یمنی فوج کے دوران کہ یمنی ایک اور اور اس کیا ہے کے لیے کہ یمن یمن کے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے پاک افواج کے افسر عامر رضا کون ہیں؟
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم