یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر ہائپرسونک بیلسٹک میزائل حملہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: یمنی حوثی تحریک نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب کے مرکزی بن گورئیان ایئرپورٹ کو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
حوثی ترجمان نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے، اور اسرائیل پر ہماری جوابی کارروائیاں شدت اختیار کریں گی، اگر اسرائیل نے یمن کی سرزمین پر براہ راست حملے کی کوشش کی تو اسے بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہر محاذ پر ناکامی مقدر بنے گی۔
خیال رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں کہ یمنی حوثیوں نے اسرائیل پر حملہ کیا ہو، اس سے قبل 2 جون کو بھی حوثی فورسز نے بیلسٹک میزائل اسرائیل کی جانب فائر کیے تھے، جس کے بعد تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ایئر سائرن بج اٹھے تھے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق بن گورئیان ایئرپورٹ پر حملے نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہائپرسونک میزائلوں کو موجودہ ڈیفنس شیلڈز کے ذریعے روکنا مشکل ہوتا ہے، ایسی میزائل ٹیکنالوجی آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے نشانہ بناتی ہے، اور اس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
حوثی تحریک کی جانب سے بار بار اسرائیل پر حملے، بالخصوص حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں، خطے میں جاری اسرائیل غزہ جنگ کے عالمی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں، وہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور جب تک غزہ پر حملے بند نہیں ہوتے، ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل پر
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔