غیرقانونی دیوارکھڑی کرنے پر کوہسارزون کے رہائشیوں میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)محکمہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے لطیف آباد کوہسار مین روڈ پر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر دیوار کھڑی کرنے پر کوہسار زون کے رہائشیوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کو تحریری نوٹس بھیجا ہے کہ اس طرح کی تعمیرات سے باز رہا جائے۔ 1998ء اور 1999ء میں اس وقت کے ایچ ڈی اے کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین اور سابق ڈی جی ایچ ڈی اے غلام محمد قائم خانی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی و سندھ رجمنٹل سینٹر سے اجازت لے تھی کہ کوہسار کا مین روڈ آئندہ سو فٹ چوڑا ہوگا، اس وقت سو میں سے 50فٹ چوڑا روڈ بنایا گیا جو اب تک موجود ہے، جبکہ 1998ء اور 1999ء میں یہ صرف14فٹ چوڑا روڈ تھا اس وقت ایچ ڈی اے کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین اور دیگر عہدیداروں نے بھاگ دوڑ کرکے یہ روڈ سو فٹ چوڑا منظور کرایا تھا اور 50 فٹ چوڑائی میں بنایا جاچکا تھا، 50 فٹ مزید چوڑا ہونا ہے یعنی 25-25فٹ دوطرفہ چوڑائی ہونی ہے لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی موجودہ روڈ کے ساتھ ہی دیوار تعمیر کررہے ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جو زمین ہے اس میں کچھ کے علاوہ باقی زمین کی قیمت تاحال محکمہ ریونیو کو ادا بھی کی گئی ہے یہ روڈ شارع عوام ہے اور یہ عام شہریوں کی ملکیت ہوتی ہے اس پر ہر شہری کا حق ہوتا ہے کہ وہ جب چاہئے وہاں سے گزر سکتا ہے لیکن سول ایوی ایشن کا عملہ 100فٹ منظور سڑک کے بجائے 50فٹ چوڑی سڑک پر باؤنڈری بناکر اسے محدود کررہا ہے جس سے کوہسار زون میں مختلف ہاؤسنگ اسکیم کے رہائشی افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں اس شاہراہ پر کئی گنا ٹریفک بڑھ جائیگی اور سڑک چوڑی نہ ہونے کی وجہ سے ایک تو یہاں حادثات میں اضافہ ہوگا دوسرا ہر وقت ٹریفک جام رہنے سے کوہسار کے مکینوں کو اذیت سے دوچار ہونا پڑے گا۔کوہسار کی مختلف ہاؤسنگ اسکیم کے رہائشی افراد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فوری طورپر سڑک کے ساتھ دیوار بنانے سے روکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سول ایوی ایشن اتھارٹی
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932