امریکا کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی میں بڑی پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان سے امریکا کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی کے سلسلے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیم جنوری میں ایک اور آڈٹ کے لیے پاکستان پہنچے گی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے تمام متعلقہ شعبوں کے سربراہان کو امریکی آڈٹ کی تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔
امریکی ٹیم پاکستان سول ایوی ایشن اور ملکی ایئر لائنز کے طیاروں کی مینٹیننس، فلائٹ سیفٹی اور آپریشنل معیار کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈٹ کے دوران امریکی ماہرین ان طیاروں کا بھی معائنہ کریں گے جو مستقبل میں پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ستمبر میں امریکی ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیم نے سی اے اے اور پاکستانی ایئر لائنز کے طیاروں کا ابتدائی آڈٹ کیا تھا۔
جنوری میں ہونے والا نیا آڈٹ کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستانی ایئر لائنز کی امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تلاش براہ راست پروازوں ایوی ایشن
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔