جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے نام کی تبدیلی کی خبریں، مریم اورنگزیب کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور:
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے واضح کردیا کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا نام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور اس حوالے سے زیرگردش خبروں کو مسترد کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ "جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور" کا نام "جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور" ہی ہے اور کسی قسم کی تبدیلی زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے مالی سال 26-2025 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈنگ ”جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی“ کے نام سے ہی رکھی گئی ہے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ امراض قلب اور دیگر بیماریوں کے عالمی معیار کے جدید علاج کے لیے 14 نئے اسپتال نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں قائم ہوں گے جس کی ماسٹر پلاننگ تکمیل کے قریب ہے۔
مریم اورنگزیب نے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے نام کی تبدیلی سے متعلق زیرگردش خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کی تصدیق کے بعد خبر دینے کی درخواست ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی مریم اورنگزیب کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔