کراچی:

یونیورسٹی روڈ پر کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوگئیں، ریڈ لائن اور کے فور منصوبے نے تمام امور ٹھپ کر کے رکھ دئیے، بیت المکرم مسجد سے اردو سائنس کالج تک سیوریج کا پانی سڑکوں پر الگ جمع ہوگیا، مرکزی سڑک کے ساتھ ساتھ سروس روڈ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن پروجیکٹ، کے فور منصوبے نے پوری شاہراہ کو کھنڈرات میں بدل کر رکھ دیا، شہریوں کے مطابق منصوبہ مسلسل تاخیرکا شکار ہورہا ہے جبکہ یونی ورسٹی روڈ پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی ہے لوگ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں شہری طے کرنے پر مجبور ہیں۔

حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک جانے والا ٹریک گزشتہ دو ماہ سے گندے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے بلکہ روزانہ لاکھوں شہری بدترین ٹریفک جام میں پھنس کر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ یونی ورسٹی روڈ کے اطراف میں کاروباری حضرات انتہائی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ بیت المکرم مسجد سے نیپا چورنگی تک سیوریج کی لائن 2 ماہ سے  متاثر ہے جہاں ہر کچھ دن بعد پانی آجاتا ہے، بالخصوص ااشفاق میموریل اسپتال سے اردو سائنس کالج تک سیوریج کا پانی جمع ہوتا ہے جس کی وجہ سے اطراف کی دکانیں بند ہوگئی ہیں اور جو کچھ کھلی ہیں ان کا کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے۔

دکان داروں نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈلائن کی تعمیر نے ہمارے کاروبار کو تباہ کر کے رکھ دیا یہاں گاہک آتے نہیں کیونکہ گاڑی پارک کرنے کی جگہ ہی موجود نہیں، رہی سہی کسر دوماہ سے سیوریج کے پانی نے پوری کردی کیونکہ مرکزی سڑک پر سیوریج کا پانی ہوتا ہے تو سروس روڈ پر گاڑیاں گزرتی ہے جس سے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔

نجی و سرکاری جامعات، اسپتال اور تجارتی مراکز اسی سڑک پر واقع ہونے کے باعث طلبہ، مریض، ملازمین اور رہائشی سب متاثر ہیں۔

اسی ٹریک پر قائم دکان کے ایک مالک نے روتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے کاروبار کی یہ صورتحال ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں دینے تک کی رقم نہیں ہے ہم کس سے شکایت کریں؟ ہم اس وقت بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں اور ترقیاتی کام ہمیں اپنی زندگی میں پورے ہوتے نظر نہیں آرہے، ناقص منصوبہ بندی نے شہر کی انتہائی اہم شاہراہ یونی روسٹی روڈ کو تہس نہس کر رکھ دیا، ہم ریڈ لائن انتظامیہ کو شکایت کرتے ہیں تو وہ واٹر کارپوریشن پر ڈال دیتے ہے، واٹر کارپوریشن سے رابطہ کیا جاتا ہے تو ریڈ لائن یا کے فور منصوبے کی انتطامیہ کو مورد الزام ٹھہرادیا جاتا ہے۔

علاقے کے دکان داروں کے مطابق ترقیاتی کاموں اور نکاسی آب کے ناقص انتظام نے کاروبار مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، کبھی مین روڈ بند اور کبھی سروس روڈ پر ٹریفک منتقل کردیا جاتا ہے  جس سے حادثات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ایک رئیل اسٹیٹ ایجنسی کے مالک نے بتایا کہ یہاں روز کبھی سڑک کھود دی جاتی ہے، کبھی بند کر دی جاتی ہے ہماری دکانیں خالی پڑی ہیں، کرایہ دینا مشکل ہو گیا ہے خریدار یا کلائنٹ آ ہی نہیں سکتے نہ رینٹ ہو رہا ہے نہ ہی سیل ہوتی ہے بس ہم مئیرکراچی سے مطالبہ کرسکتے ہے کہ خدارا ہم پر رحم کریں ہمارا کاروبار بند ہونے کی پوزیشن پر آگیا ہے ہم بہت کرب میں ہیں ہماری مدد کی جائے اور ہمیں ریڈ لائن کے عذاب سے نجات دلائی جائے۔

ایک شہری نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ پہلے ہی ترقیاتی کاموں کی وجہ سے 20 منٹ کا سفر ایک گھنٹے میں طے کرتے تھے، اب گندے پانی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں، رکشا اور گاڑیوں کے کرائے بڑھ گئے ہیں، سڑک پر کٹ نہ ہونے کی وجہ سے روڈ کراس کرنا ناممکن ہوگیا ہے، حکام مکمل طور پر لاپروائی دکھا رہے ہیں پیدل چلنے والوں کے لیے ایک بھی پیڈسٹرین برج نہیں، جس کی وجہ سے انہیں اذیت کا سامنا ہے، گندے پانی کے باعث تعفن پھیل چکا ہے اور وبائی امراض کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

شہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا چاند پر جا رہی ہے اور ہم ایک پل نہیں بنا سکے، ہماری نسلیں بھی آجائیں تو شاید یہ منصوبہ مکمل نہ ہو، کراچی جو ملک کا معاشی حب ہے، اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہو رہا ہے؟

ایک کلینک کے مالک نے شکایت کی کہ ان کا کاروبار مکمل طور پر بند ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کلینک کے سامنے مٹی کے بڑے بڑے ٹیلے بنادیے گئے ہیں، مریض آنہیں پاتے، بارہا درخواست کے باوجود مٹی ہٹائی نہیں جا رہی،  دن کے صرف چند گھنٹے کام ہوتا ہے، کبھی مشین خراب، کبھی ڈیزل ختم اگر دن رات کام کیا جائے تو یہ منصوبہ دو ماہ میں مکمل ہوسکتا ہے، عملہ 12 بجے آتا ہے شام کو چلا جاتا ہے  لاپرواہی نے سب کو پریشان کر رکھا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے نہ کوئی مانیٹرنگ ہو رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مین روڈ پر گندے سیوریج کے پانی نے الگ پریشان کر رکھا ہے خواتین، بچوں اور نمازیوں کے لیے یہ گندا پانی سخت اذیت کا باعث ہے۔ یہ پانی ناپاکی پھیلا رہا ہے، نماز کے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں، لوگ آنے سے کتراتے ہیں۔ بینک، کلینکس اور شاپس سب بند ہونے کے قریب ہیں۔ بینک والوں کی تو مجبوری ہے مگر لائن سے تمام دکاندار تالے لگا کر جا چکے ہیں میں بھی تنگ آگیا ہوں۔

علاقہ مکینوں اور دکانداروں نے منتظمِ شہر مرتضیٰ وہاب اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں فوری طور پر صفائی اور نکاسی آب کا کام شروع کیا جائے تاکہ شہریوں اور کاروباری طبقے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے، موجودہ صورتحال نے شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کر دی ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل یونیورسٹی روڈ کے فور منصوبے کی وجہ سے ریڈ لائن گئے ہیں ہونے کے جاتا ہے روڈ پر کر رکھ کہا کہ

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا