اسرائیل کا یمن کے حوثیوں پر بڑا حملہ، تین اہم بندرگاہوں، پاور پلانٹ پر بمباری
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی طرف سے مسلسل میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل نے یمن میں حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ پر فضائی حملہ کر دیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یمن سے اسرائیل پر مسلسل حملے ہو رہے تھے، یمن میں الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسیٰ پورٹ کو نشانہ بنایا، راس قطب پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی فوج کے مطابق یہ حملے اُس وقت کئے گئے جب حوثی شدت پسندوں نے جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف کم از کم تین بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے ایک کو کامیابی کے ساتھ روک لیا گیا تھا۔
اسرائیل فوج کا مزید کہنا تھا کہ حوثیوں نے اس جہاز پر ریڈار سسٹم نصب کیا تھا جسے وہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہازوں کو ٹریک کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت دینے کے لئے استعمال کر رہے تھے۔صیہونی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویچائی ادری نے حملوں سے قبل مقامی وقت کے مطابق پورٹس اور بجلی گھر کے لئے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرآئیل کٹز نے ان حملوں کو آپریشن بلیک فلیگ کا حصہ قرار دیا، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں گے اور اگر وہ اسرائیل کی طرف ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنا جاری رکھتے ہیں تو مزید حملے کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو واشنگٹن روانہ ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی طرف سے مسلسل میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کو کی طرف
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔