اسرائیل پر دو سال تک روزانہ میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایران
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ سطحی مشیروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس اتنی عسکری طاقت موجود ہے کہ وہ اسرائیل پر روزانہ میزائل فائر کر کے مسلسل دو سال تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق پاسدارانِ انقلاب کے مشیر میجر جنرل ابراہیم جباری نے نیم سرکاری نے کہا کہ ہمارے مسلح افواج مکمل تیاری کے ساتھ چوکس ہیں، ہمارے پاس اتنے بڑے گودام، زیر زمین میزائل اڈے اور تنصیبات موجود ہیں کہ ہم نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا زیادہ تر حصہ ابھی تک دکھایا ہی نہیں۔
انہوں نے کہااگر اسرائیل اور امریکا کے ساتھ مکمل جنگ چھڑ جائے تو ہم روزانہ میزائل فائر کریں تب بھی ہماری صلاحیتیں دو سال تک ختم نہیں ہوں گی،صہیونی جانتے ہیں کہ ہماری کچھ افواج جیسا کہ بحریہ اور القدس فورس ابھی تک جنگ میں داخل ہی نہیں ہوئیں، حتیٰ کہ ہماری روایتی فوج نے بھی جنگی میدان میں قدم نہیں رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہم ہزاروں میزائل اور ڈرونز تیار کر چکے ہیں، جنہیں محفوظ جگہوں پر رکھا گیا ہے۔
خیال رہےکہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کی فوجی، جوہری اور شہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 935 افراد شہید اور 5,332 زخمی ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملے کیے جن میں 29 افراد ہلاک اور 3,400 سے زائد زخمی ہوئے، جیسا کہ عبرانی یونیورسٹی یروشلم نے اعداد و شمار میں بتایا۔
تنازع بالآخر 24 جون کو ایک امریکی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی معاہدے پر منتج ہوا، فریقین کے بیانات سے واضح ہے کہ کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر ان بیانات پر ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھی تو یہ تصادم وسیع پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔