برطانوی شہزادی نے کینسر سے صحتیابی کے انتہائی درد بھرے لمحات کی روداد سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
برطانیہ کی شہزادی آف ویلز کیتھرین نے کینسر کے علاج کے بعد درپیش "انتہائی مشکل" وقت کے بارے میں پہلی بار عوامی سطح پر کھل کر بات کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شہزادی کیتھرین رائل ایسکاٹ میں کافی عرصے سے غیر متوقع غیر حاضری کے بعد پہلی عوامی تقریب میں شریک ہوئی تھیں۔
اس موقع پر انھوں نے کینسر کے مریضوں اور طبی عملے سے ملاقات کی اور ایک خوبصورت گلاب کا پودا بھی لگایا جسے "کیتھرینز روز" کا نام دیا گیا تھا۔
کینسر کے مریضوں سے بات کرتے ہوئے شہزادی کیتھرین نے کہا کہ مجھے معلوم ہے آپ پر کیا بیت رہی ہے۔ میں انہی لمحات سے گزری ہوں۔
شہزادی نے بتایا کہ علاج کے دوران مضبوط بننے کی کوشش کرتے ہیں اور سب کے سامنے بہادر نظر آتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا جب علاج مکمل ہوا تو انسان سوچتا ہے کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن حقیقت میں وہ مرحلہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔
شہزادی کیتھرین نے مزید کہا کہ آپ اب کلینیکل ٹیم کے زیرِ نگرانی نہیں ہوتے لیکن گھر میں بھی اپنی معمول کی زندگی نہیں گزار پاتے جیسے پہلے گزار رہے تھے۔
شہزادی نے کہا کہ مجھے وہ ایک ایک پل اب بھی یاد ہے جو میں نے تکلیف میں گزارے اور اپنے اہل خانہ کی مدد سے اس سے نکنے میں کامیاب ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔