آلہ سماعت صرف سننے میں نہیں، زندگی بدلنے میں بھی مددگار، تحقیق کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آلہ سماعت محض سماعت کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ یہ افراد کی معاشرتی زندگی، ذہنی صحت اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آلہ سماعت کے استعمال سے سماجی سرگرمیوں میں شرکت بڑھتی ہے، تنہائی میں کمی آتی ہے اور ذہنی دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی میں ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں معلوم ہوا کہ آلہ سماعت استعمال کرنے والے بزرگ افراد نے کم از کم ایک اضافی قریبی رشتہ برقرار رکھا، جبکہ جنہوں نے یہ آلہ استعمال نہیں کیا، ان میں تنہائی میں اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق کے مطابق سماجی بحالی جذباتی بحالی کی نسبت زیادہ تیزی سے آتی ہے، خاص طور پر خواتین میں اس کا اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
ایک اور تحقیق جس میں دو ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ آلہ سماعت استعمال کرنے والوں کے تعلقات میں بہتری آتی ہے، ڈپریشن کم ہوتا ہے اور اجتماعی تقریبات میں ان کی شرکت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سماعت کے مسائل سے دوچار افراد جب آلہ سماعت کا استعمال شروع کرتے ہیں تو ان کی ذہنی مشقت میں نمایاں کمی آتی ہے، جس سے روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
لانسٹ ہیلتھی لانگیویٹی میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق آلہ سماعت استعمال کرنے والے افراد میں موت کے امکانات ان افراد کی نسبت 24 فیصد کم پائے گئے، جو آلہ استعمال نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بہتر سماعت کے باعث یہ افراد معاشرتی سرگرمیوں میں سرگرم رہتے ہیں، جس سے جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے اور ان کی مجموعی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
یہ تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ آلہ سماعت کا استعمال عمر رسیدہ افراد کی زندگی میں ایک نئی امید بن سکتا ہے، جو نہ صرف انہیں سننے میں مدد دیتا ہے بلکہ انہیں دوبارہ سماج سے جوڑ کر ان کی زندگی میں خوشیوں کی نئی راہیں کھول دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ آلہ سماعت زندگی میں کے مطابق آتی ہے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔