ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ غذا میں کاربوہائیڈریٹس کی کٹوتی الزائمرز کے مرض کے امکانات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

میٹابولزم کے عمل میں کاربوہائیڈریٹس چینی کی ایک تبدیل شدہ قسم ڈھل جاتے ہیں جن کو گلائکوجن کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی توانائی ہوتے ہیں جو دماغ فعال رہنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

دماغ کو فعالیت کے لیے انتہائی کم مقدار میں یہ توانائی چاہیئے ہوتی ہے لیکن کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس کی زیادتی دماغ میں زہریلے پروٹین ’ٹاؤ‘ کا سبب بن سکتی ہے جو اس گلائکوجن کو تحلیل کرنے سے روکتے ہیں۔

ٹاؤ اور ایک اور قسم کے پروٹین ایمیلائیڈ  کے ذخیرے جمع ہوکر الجھ سکتے ہیں جو کہ الزائمرزکی علامات کی پشت  پر موجود وجہ سمجھی جاتے ہیں۔

تازہ ترین تجربوں میں معلوم ہوا ہے کہ گلائکوجن فاسفوریلیس خامروں کی بڑی تعداد دماغ میں گلائکوجن کو تحلیل کر کے ٹاؤ کے ذخیرے کو ختم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کم مقدار میں کاربو ہائیڈریٹ کھانا بھی ان خامروں میں اضافے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر پنکج کپاہی کا کہناتھا کہ ٹیم نے شاید ابتدائی دور میں ڈیمینشیا سے نمٹنے کی ایک نئی ’تھراپیوٹک اسٹریٹیجی‘ دریافت کر لی ہے۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان کا کمزور اقتصادی ڈھانچہ لرزرہا ہے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (کامرس ڈ یسک)ملکی معیشت مسلسل دباؤ میں ہے پاکستان کا اقتصادی ڈھانچہ خطرناک حد تک غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل نئے قرضے لینے سے مجموعی قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ متعدد کاروباری گروپ اپنے سرمائے کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں جس سے صنعتی پیداوار، روزگار اور ٹیکس وصولی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ مقامی ماہرین کے بعد اب عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، کمزور حکمرانی اور غیر شفاف انتظامی ڈھانچے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری عمال کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کا پابند نہیں بنایا جاتا احتساب کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا اور اصلاحات کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔ بیوروکریسی کے منفی رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ سو ارب روپے سے زیادہ ٹیکس دینے والے ٹیلی کام شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے بھی اعلیٰ افسران کے پاس وقت نہیں ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث اقتصادی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے جس کا براہ راست اثر روزگار، قیمتوں اور نجی کاروبار کی لاگت پر پڑ رہا ہے۔خطے کے تقابلی جائزے میں پاکستان کی معاشی کمزوری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ بھارت گزشتہ برسوں میں چار اعشاریہ دو کھرب ڈالر کی معیشت کے ساتھ عالمی سطح پر چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے جبکہ پاکستان کا قومی بجٹ صرف باسٹھ ارب ڈالر ہے اور فی کس آمدنی تقریباً سترہ سو ڈالر کے قریب ہے۔ بالغ شرح خواندگی ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے جو علاقائی ممالک سے کم ہے۔افغانستان سے تجارت کی معطلی کے حکومتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے شاہد رشید بٹ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ فیصلہ دفاعی نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ تجارتی تعطل اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک طالبان حکومت دہشت گردی نہیں روکتی طالبان رہنماؤں کو جاری کئے گئے تمام فری ہیلتھ کارڈ بھی فوری منسوخ کیے جائیں۔

کامرس ڈیسک گلزار

متعلقہ مضامین

  • کیا بچوں کی بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال محفوظ ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس جگر کی مہلک بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق
  • چولستان،اونٹوں میں پاسٹوریلا ملٹوسیڈا نامی وائرس کی تصدیق، فرانزک رپورٹ
  • ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
  • ناسا کا شہابِ ثاقب کے چاند سے ممکنہ خطرناک  ٹکراؤ پر الرٹ
  • دماغی ارتقا کے پانچ عہد: انسانی ذہانت، شخصیت اور بڑھاپے کی سائنس کا نیا افق
  • پاکستان کا کمزور اقتصادی ڈھانچہ لرزرہا ہے
  • کافی کا استعمال عمر بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے: تحقیق
  • بھارتی وزیر دفاع نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا اس لیے دماغ خراب ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسکرین ٹائم کے بچوں کی صحت پر حیران کن مثبت اثرات سامنے آگئے، نئی تحقیق